اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر معاشرتی ناہمواریوں کو دور اور وطن عزیز کو امن، سلامتی اور خوشیوں کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے ،ْ صدر ممنون حسین

جمعہ جون 15:57

اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر معاشرتی ناہمواریوں کو دور ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جون2018ء) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر معاشرتی ناہمواریوں کو دور اور وطن عزیز کو امن، سلامتی اور خوشیوں کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ عیدالفطر کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ عیدالفطر شکرانے اور خوشی کا عظیم دین ہے، اس دن کی آمد پر میں پاکستانی عوام اور دنیا بھر کے اہل اسلام کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں، میں دست بہ دعا ہوں کہ الله تعالیٰ نیکیوں کے موسم بہار یعنی رمضان المبارک میں کی جانے والی عبادات سے ملنے والی تربیت کے ذریعے آج کے دن کی برکت سے وطن عزیز کو امن و سلامتی اور ترقی کا گہوارہ بنا دے اور ہمارے مسائل حل فرمائے۔

انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک تربیت اور تیاری کا مہینہ ہے، اس ماہ مبارک میں حاصل ہونے والی تربیت اور تزکیہ نفس ہمیں سکھاتا ہے کہ سال کے باقی ایام بلکہ آئندہ معاملات زندگی کو کیسے چلانا ہے، ان مقدس ایام میں زبان، آنکھ اور ہاتھ پائوں کی عبادت کے جس غیر معمولی تصور کی ہمیں تربیت ملتی ہے اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات اور تمام پہلوئوں سے ہے لیکن حسن اتفاق سے آئندہ چند ماہ کے دوران ان کی اہمیت بہت ہی زیادہ ہے۔

(جاری ہے)

صدر مملکت نے کہا کہ میرا اشارہ انتخابی عمل کی طرف ہے، ایسی کیفیت میں سیاسی مہم جوئی اور آگے بڑھنے کی خواہش کے پیش نظر انسان سے انفرادی اور اجتماعی طور پر بہت سی ایسی لغزشیں سرزد ہو جاتی ہیں جو عبادت کے اس تصور کے منافی ہیں جس سے دلوں میں میل پیدا ہوتی اور کدورتیں بڑھتی جاتی ہیں، اس لئے میں سیاسی کارکنوں، متعلقہ سٹیک ہولڈرز بلکہ پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ رمضان المبارک میں حاصل ہونے والی اس تربیت کو نہ صرف زمانہ انتخاب بلکہ آئندہ زندگی کے ہر مرحلہ پر جزو زندگی بنا لیں تاکہ وطن عزیز کو امن، سلامتی اور خوشیوں کا گہوارہ بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس ماہ مقدس میں تزکیہ نفس کے روحانی تجربات سے عملی طور پر گزرنے سے ہمیں معاشرے کے کمزور طبقات کی مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے، ان سے ہمدردی کے جذبات پروان چڑھتے ہیں اور ہم دل کھول کر ان کی مدد کیلئے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہیں۔ اس موقع پر ہم اپنی مالی عبادات یعنی زکوة، فطر اور دیگر صدقات حقداروں تک پہنچا کر انہیں عید کی خوشیوں میں شامل کر سکتے ہیں، یہی اسلام اور رمضان کی اصل تعلیمات ہیں جن پر عمل کرکے ہم معاشرتی ناہمواریوں کو کم اور زندگی کو جینے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ان مبارک ساعتوں میں رب کعبہ کے حضور دعاگو ہوں کہ وہ وطن عزیز کو امن و ترقی کا گہوارہ بنائے اور ہمیں ہمیشہ اپنی نعمتوں سے نوازتا رہے۔