ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں آئے روز کمی سے مہنگائی میں ہوشربا اضافہ

پاکستان ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان نے شدید تشویش کا اظہار کردیا ، نگران حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ

بدھ جون 20:00

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) پاکستان ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان (رجسٹرڈ) کے رہنمائوں محمد رمضان اچکزئی، خان زمان، بشیر احمد رند، عبدالمعروف آزاد، حاجی عزیز اللہ،ضیاء الرحمن ساسولی، علی اکبر شاہوانی، محمد فاروق بازئی، محمد رفیق لہڑی، عبدالعلی چراغ، عبدالحئی، سید محمد لہڑی، عبدالباقی لہڑی، محمد قاسم کاکڑ، سرزمین افغانی، نور محمد، عارف نیچاری، حاجی سیف اللہ، ملک وحید خان ، سید آغا محمد،عابد بٹ اور دیگر نے ایک مشترکہ اخباری بیان کے ذریعے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں آئے روز کمی کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات ،اشیاء خورد و نوش، عام ضروریات کی اشیاء ، ٹرانسپورٹ سمیت بنیادی ضروریات کی چیزوں کو مہنگا کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال جون میں ایک ڈالر 103 روپے کی تھی اور اب ایک ڈالر 125 روپے تک پہنچنے پر 22% سے زیادہ ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے تمام چیزیں مہنگی کر دی گئی ہیں۔

(جاری ہے)

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10% اضافے سے پچھلے سال کے مقابلے میں امسال قوت خرید میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کم سے کم تنخواہ 15 ہزار روپے پچھلے سال لینے والے ملازمین کی تنخواہ 145 ڈالر تھی جو اب 120 ڈالر ماہانہ پر پہنچ چکی ہے۔ تنخواہوں میں 10% اضافہ، سالانہ انکریمنٹ گریڈ 20سے 22 کی تنخواہیں کم از کم 10 ہزار روپے سے زیادہ بڑھ چکی ہے جبکہ گریڈ 01 سے 10 تک کے ملازمین کی تنخواہیں 02 ہزار روپے تک بھی نہیں بڑھی ہے ۔

اس کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹر میں مزدوروں کو 15 ہزار روپے منیمم ویج بھی نہیں مل رہا ہے جس کی وجہ سے آئین کے بنیادی زندہ رہنے کا حق غریب شہریوں سے چھینا جاچکا ہے۔ آئین کے بنیادی حقوق قانون کی نظر میں سب کی برابری، شہریوں کے درمیان امتیازی سلوک کا نہ ہونا اور ملک میں اسلامی اصولوں کے مطابق اونچ نیچ کے خاتمے کی یقین دہانی کے باوجود الیٹ اور مراعات یافتہ طبقہ اربوں اور کھربوں میں پہنچ چکا ہے جبکہ غریب روز بروز زندہ درگور ہو کر تعلیم،، صحت ،خوراک، پوشاک، رہائش، صحت، انصاف اور روزگار سے محروم ہیں۔

یہی وجہ ملک میں بد امنی کا باعث ہیں اور یہ خطرے کی گھنٹی ہے کہ ملک خانہ جنگی کی طرف نہ چلا جائے۔ انہوں نے ملک میں 2018 کے الیکشن کو شفاف بنانے پر زور دیا اور امیدواروں کی سخت سے سخت سیکروٹنی کرنے اور انھیں حقیقی جمہوریتوں کی طرح ڈاکہ زنی کی بجائے عوام کی خدمت کرنے کیلئے حقیقی ذمہ داریاں ادا کرنے پر زور دیا ۔ ملک اور صوبے کے نگران حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شفاف انتخابات یقینی بنانے کیلئے کردا ادا کریں۔

ملک میں مہنگائی کو کنٹرول کرے اور گزشتہ پانچ سالوں میں کئے جانے والے کرپشن سے متعلق بڑے اور اہم کیسز نیب کے حوالے کرکے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ ملک اور چاروں صوبوں کی سطح پر نگران کابینہ میں مزدوروں کو نمائندگی دی جائے تاکہ ملک اور صوبوں میں تمام طبقات کے لوگ مل کر ملک اور صوبوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکے۔ انہوں نے صوبے میں عبدالسلام کاکڑ کی بحیثیت صوبائی وزیر محنت تعیناتی کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ وزیر موصوف اس سے پیشتر بھی بطور بیوروکریٹ ایمانداری اور اہلیت سے کام کر چکے ہیں۔

ان سے توقع ہے کہ وہ محکمہ محنت کے تمام ویلفیئر کے معاملات کو دیکھے ، لوٹ مار کا خاتمہ کرائے بالخصوص 19 گریڈ کے جونیئر آفیسر کی بحیثیت سیکریٹری تعیناتی ختم کروا کر ورکر ویلفیئر بورڈ میں کی جانے والی بھرتیوں ، غیر قانونی اور قواعد و ضوابط کے برخلاف ٹینڈرز،ورکرز کے بچوں کی ٹرانسپورٹ اور وردیوں کی مد میں کرپشن کی انکوائری کراکر گزشتہ سالوں میں کی جانے والی کرپشن کے ایک ایک پیسے کا لوٹ ما رکرنے والوں سے احتساب کریں۔

انہوں نے وزیر موصوف کو بتایا کہ گزشتہ کئی سالوں سے ملازمین کے ڈیتھ گرانٹ، سکالر شپ اور میرج گرانٹ کے کیسز کو زیر التوا رکھا گیا ہے اور ورکرز کی کسی بھی سطح پر ویلفیئر نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ گڈانی کے دو واقعات میں 32 اہلکار آگ میں جھلس کر شہید ہوئے اور کئی زخمی ہوئے لیکن عدالت عظمیٰ کی ہدایت کے باوجود ذمہ داروں کو کوئی سزا نہیں دی گئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈ سے منظور شدہ 05,05 لاکھ روپے اس لئے نہیں دیئے جارہے کہ ان میں آفیسروں کی کرپشن نہیں ہو سکتی اور تاخیر پہ تاخیر کرکے غریب فیملیز کی داد رسی نہیں ہو رہی۔

انہوں نے نگران حکومت سے گزشتہ پانچ سالوں میں ہونے والی تمام بھرتیوں بالخصوص ایری گیشن ڈیپارٹمنٹ میں کی جانے والی بھرتیوں، ایکٹنگ پروموشنز اور پروجیکٹس میں ہونے والی بے قاعدگیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزدوروں پر زور دیا کہ وہ آنے والے الیکشن میں عام اور مزدور طبقے کے امیدواروں ووٹ دیں اور کنفیڈریشن کے اجتماعی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے اہل اور ایماندار لوگوں کا انتخاب کرکے مستقبل میں جمہوریت پر عوامی اعتماد کو بڑھانے میں اپنا کردا ر ادا کریں۔

انہوں نے تمام سیاسی پارٹیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حلقے کے پارٹی ممبروں کے ذریعے تجویز کردہ ایم این ایز اور ایم پی ایزکو ٹکٹ جاری کرے اور سیاسی پارٹیوں میں مزدوروں کو ٹکٹوں میں نمائندگی دے، خواتین کی نمائندگی خاندان سے لینے کی بجائے اہلیت پر لئے جائیں، پارٹی کے اندر جنرل کونسل اور ایگزیکٹو کمیٹیاں فعال بنا کر شخصی ڈکٹیٹر شپ کی لیڈرشپ کا خاتمہ کرے۔