تین ہفتوں میں گردشی قرضے میں 40ارب روپے کا اضافہ تشویشناک ہے ،ْشیخ عامر وحید

حکومت گردشی قرضے پر قابو پانے کیلئے فوری اصلاحی اقدامات اٹھائے ،ْحکومت سے مطالبہ

جمعرات جون 17:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید نے کہا کہ گذشتہ تین ہفتوں میں پاکستان کے گردشی قرضے میں 40ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جو انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ اس سے ملک میں توانائی بحران مزید سنگین ہو گا جس کے صنعتی و تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثرت مرتب ہوں گے اور معیشت مزید کمزور ہو گی لہذا انہوںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گردشی قرضے پر قابو پانے کیلئے فوری اصلاحی اقدامات اٹھائے۔

انہوںنے کہا کہ 31مئی 2018تک ملک کا گردشی قرضہ 507ارب روپے تھا جو اب بڑھ کر 547ارب روپے تک پہنچ گیا ہے اور اگر اس پر فوری قابو نہ پایا گیا تو ملک کو بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شیخ عامر وحید نے کہا کہ پاکستان کے توانائی شعبے کا قرضہ ایک کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ہے اور خبردار کیا کہ اگر اس روش کو جلد تبدیل نہ کیا گیا تو معیشت شدید مشکلات کا شکار ہو گی۔

(جاری ہے)

انہوںنے حکومت پر زور دیا کہ وہ بلا امتیاز تمام ڈیفالٹرز سے بجلی کے بلوں کی وصولی کیلئے کوششیں تیز کرے اور اس سلسلے میں ایک جامع حکمت عملی وضع کرے تا کہ معیشت کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ انہوںنے کہا کہ جو باثر لوگ بجلی کے بل ادا نہیں کرتے ان کی بجلی کاٹ لی جائے کیونکہ چند افراد کی عدم ادائیگی کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے جو کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔

آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ پاکستان اکنامک سروے برائے 2017-18کے مطابق ہمارے ملک میں 64فیصد بجلی تھرمل ذرائع سے پیدا کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری بجلی کی قیمت خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا میں بجلی کی اوسط قیمت 7روپے فی یونٹ ہے جبکہ پاکستان میں 13سی14روپے فی یونٹ بنتی ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مہنگی بجلی کی وجہ سے کاروبار کی لاگت میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔

انہوںنے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پانی اور قابل تجدید ذرائع سے بجلی پیدا کرنے پر زیادہ توجہ دے تا کہ سستی بجلی پیدا ہونے سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے ، مصنوعات سستی ہونے سے برآمدات میں اضافہ ہو اور مہنگائی کم ہونے سے عوام کو بھی ریلیف ملے ۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر محمد نوید ملک اور نائب صدر نثار مرزا نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کا نیٹورک کافی پرانا ہو گیا ہے جس وجہ سے بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نقصانات کافی زیادہ ہیں جو بجلی کے ضیائع کا باعث بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض بجلی کمپنیوں کے ترسیل و تقسیم کے نقصانات 22فیصد سے 37فیصد تک ریکارڈ کئے گئے ہیں جبکہ ہبکو کو ترسیل نقصانات کی وجہ سے سالانہ 130ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے لہذا انہوںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بجلی کی چوری اور ترسیل و تقسیم کے نقصانات کو کم کرنے کیلئے فوری اصلاحی اقدامات اٹھائے تا کہ توانائی کی صورتحال بہتر ہونے سے صنعت و تجارت کو بہتر فروغ ملے اور معیشت بہتری کی طرف گامزن ہو۔