حکومت بلاامتیاز تمام ڈیفالٹرز سے بجلی کے بلوں کی وصولی کیلئے کوششیں تیز کرے، شیخ عامر وحید

جمعرات جون 17:50

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید نے کہا ہے کہ پاکستان کے گردشی قرضہ میں اضافہ سے توانائی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے جس کے صنعتی و تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثرت مرتب ہوں گے اور معیشت مزید کمزور ہو گی، حکومت گردشی قرضے پر قابو پانے کیلئے فوری اصلاحی اقدامات اٹھائے۔

جمعرات کو اپنے بیان میں انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بلاامتیاز تمام ڈیفالٹرز سے بجلی کے بلوں کی وصولی کیلئے کوششیں تیز کرے اور اس سلسلے میں ایک جامع حکمت عملی وضع کرے تا کہ معیشت کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ انہوںنے کہا کہ جو باثر لوگ بجلی کے بل ادا نہیں کرتے ان کی بجلی کاٹ لی جائے کیونکہ چند افراد کی عدم ادائیگی کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے جو کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔

(جاری ہے)

آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ پاکستان اکنامک سروے برائے 2017-18ء کے مطابق ہمارے ملک میں 64 فیصد بجلی تھرمل ذرائع سے پیدا کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری بجلی کی قیمت خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا میں بجلی کی اوسط قیمت 7روپے فی یونٹ ہے جبکہ پاکستان میں 13سی14روپے فی یونٹ بنتی ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مہنگی بجلی کی وجہ سے کاروبار کی لاگت میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔

انہوںنے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پانی اور قابل تجدید ذرائع سے بجلی پیدا کرنے پر زیادہ توجہ دے تا کہ سستی بجلی پیدا ہونے سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے ، مصنوعات سستی ہونے سے برآمدات میں اضافہ ہو اور مہنگائی کم ہونے سے عوام کو بھی ریلیف ملے۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر محمد نوید ملک اور نائب صدر نثار مرزا نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کا نیٹ ورک کافی پرانا ہو گیا ہے جس وجہ سے بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نقصانات کافی زیادہ ہیں جو بجلی کے ضیائع کا باعث بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض بجلی کمپنیوں کے ترسیل و تقسیم کے نقصانات 22فیصد سے 37فیصد تک ریکارڈ کئے گئے ہیں جبکہ ہبکو کو ترسیل نقصانات کی وجہ سے سالانہ 130 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے لہٰذا انہوںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بجلی کی چوری اور ترسیل و تقسیم کے نقصانات کو کم کرنے کیلئے فوری اصلاحی اقدامات اٹھائے تا کہ توانائی کی صورتحال بہتر ہونے سے صنعت و تجارت کو بہتر فروغ ملے اور معیشت بہتری کی طرف گامزن ہو۔