5ویں سکیل کا پپو پٹواری 7تجارتی کمپنیوں کا مالک اور اربوں روپے کے اثاثہ جات کا مالک بن گیا

بحریہ ٹائون میں سلک روٹ اور مکھن مکئی کروڑوں مالیت کے دوبڑے ہوٹل بھی پپو پٹواری کی ملکیت نکل آئے دبئی اسلامک بنک اور الائیڈ بنک میں ملزم کے خفیہ بنک اکائونٹس بھی سامنے آگئے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن بریگیڈیئر (ر) مظفر رانجھا نے پپو پٹواری کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے اور شریک جرم ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے تفتیشی ٹیم کو مکمل فری ہینڈ دے دیا

جمعرات جون 21:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب بریگیڈیئر (ر) مظفر رانجھا کی براہ راست نگرانی میں قائم ہونے والی تحقیقاتی ٹیم نے راولپنڈی اسلام آباد کے ’’شہرت یافتہ‘‘ خورشید احمد عرف’’ پپوپٹواری‘‘ کے خلاف جاری تحقیقات کے دوران اسکی 7کمپنیوں اور اربوں روپے مالیت کے اثاثہ جات کا سراغ لگالیا ہے 5ویں سکیل کے پٹواری خورشید احمد عرف پپو نے سیکورٹی اینڈایکسچینج کمیشن ((ایس ای سی پی)) میں تمام کمپنیاں اپنی اہلیہ کے نام سے رجسٹرڈ کروائی ہیں اور بحریہ ٹائون کے کمرشل ایریاز میں سلک روٹ اور مکھن مکئی کے نام سے دو بڑے ہوٹلز بھی پپو پٹواری کے نام پر ہیں جنکی مالیت کروڑوں روپے ہے ۔

اس نے 100کنال اراضی بھی اپنے نام اور اپنی اہلیہ کے نام خرید رکھی ہے ، محکمہ اینٹی کرپشن نے 26کنال اراضی کو 626کنال بنانے کے خلاف درج مقدمے میں پپو پٹواری کو گرفتار کیا ہے جس میں پراپرٹی مافیا کے کنگ میکر سائیں انعام ، انکے ایک سالے سمیت الیاس پٹواری اور دیگر کو اینٹی کرپشن حکام نے پہلے ہی تحویل میں لے رکھا ہے جو اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر سینٹرل جیل اڈیالہ میں موجود ہیں اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ راولپنڈی کے سرکل آفیسر امجد شہزاد نے گزشتہ دنوں ڈرامائی انداز میں چھاپہ مارکر خورشید احمد عرف پپو پٹواری کو گرفتار کیا تھا، اور دوران تفتیش پپو پٹواری نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے ایس ای سی پی میں سات کمپنیاں رجسٹرڈ کرارکھی ہیں جو اسکی اہلیہ کے نام پر ہیں جن سات کمپنیوں کا سراغ لگایا گیا ہے اس میں سن ریزکمپنی، کے ایس ایسوسی ایشن کمپنی،، رائل نیٹ ورک کمپنی ، سلک روٹ کمپنی ، سروسز نیٹ کمپنیاں شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جبکہ ملک مہنگے ترین بحریہ ٹائون کے کمرشل ایریاز میں سلک روٹ اور مکھن مکئی کے نام سے دوبڑے ہوٹلز بھی پپوپٹواری کی ملکیت ہیں جو کروڑوں روپے مالیت کے ہیں۔ اینٹی کرپشن کی تحقیقاتی رپورت کے مطابق 100کنال کے قریب زرعی اراضی بھی پپوپٹواری کے نام نکلی ہے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے 5ویں سکیل کے پٹواری کی جانب سے اربوں روپے کے اثاثہ جات اکھٹے آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے جعل سازی ، اور سرکاری ریکارڈ میں ٹمپرنگ اور اراضی کے اصل مالکان کو انکے حق سے محروم رکھنے کے اس مقدمے کی تحقیقات کا دائرہ کاروسیع کردیا ہے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تیار ہونے والی تحقیقاتی رپورت میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے پپوپٹواری کے بنک اکاونٹ میں ایک ہی روز 10کروڑ روپے کی خطیر رقم بھی منتقل ہوئی ہے جبکہ پپوپٹواری کی ساطت سے لاہور کی رہائشی ایک شازیہ پٹھانی کے بنک اکائونٹ میں بھی بھاری رقوم کی تسلسل کے ساتھ منتقلی کی جاتی رہی ہے شازیہ پٹھانی نامی خاتون کے نام زمین کے فرضی انتقال کرائے جاتے تھے مگر خاتون کے کردار کے تعین کیلئے تحقیقات آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہیں آئی این پی کے تحقیقاتی سیل کو ملنے والی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیپو پٹواری نے دوبئی اسلامک بنک اور الائیڈ بنک میں دو خفیہ بنک اکائونٹس کا بھی پتہ چلایا گیا ہے ۔

اور پیپو پٹواری نے 26کنال اراضی کو 626کنال بنا کر محکمہ مال کے ریکارڈ میں جعل سازی کی ہے اور اس عمل میں اس کے شریک جرم تمام ملزمان کو بھی حراست میں کیا گیا ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ پیپو پٹواری ایوان صدر ہائوسنگ سوسائٹی سیکنڈل میں اینٹی کرپشن کو مطلوب ہے اور اس حوالے سے ایک الگ مقدمہ بھی قائم کیا گیا ہے جس میں پیپو پٹواری الگ سے گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔