نگران وزیر توانائی بیرسٹر سید علی ظفر سے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

وفد نے ٹیکسٹائل کے شعبہ کی گیس اور بجلی کی ضروریات اور اس شعبہ کو درپیش مختلف چیلنجز سے آگاہ کیا

جمعہ جون 07:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) نگران وزیر توانائی بیرسٹر سید علی ظفر سے جمعرات کو آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں وفد نے وفاقی وزیر کو ٹیکسٹائل کے شعبہ کی گیس اور بجلی کی ضروریات اور اس شعبہ کو درپیش مختلف چیلنجز سے آگاہ کیا۔ اپٹما کے نمائندوں نے وفاقی وزیر سے مطالبہ کیا کہ بنگلہ دیش کی طرح پاکستان کے ٹیکسٹائل کے شعبہ کو بھی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے جس سے ٹیکسٹائل کی برآمدات میں خاطر خواہ حد تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کے شعبہ میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کار اس شعبہ میں مزید سرمایہ کاری سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک بھارت اور بنگلہ دیش میں ٹیکسٹائل کے شعبہ کو انتہائی سستی قیمت پر توانائی فراہم کی جا رہی ہے، پاکستان میں بھی اس شعبہ کو ارزاں نرخوں پر گیس اور بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکسٹائل کے شعبہ کو ڈبلیو اے سی جی فارمولہ کے تحت گیس فراہم کی جائے اور ٹیکسٹائل کے شعبہ کا گیس کوٹہ بڑھایا جائے۔ اپٹما کے وفد کو اجلاس کے شرکاء کی طرف سے بتایا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 158 پر عملدرآمد کے حوالہ سے کیس اعلیٰ عدلیہ میں زیر سماعت ہے، جب تک اس کا حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک ڈبلیو اے سی جی فارمولہ پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکتا۔

سوئی ناردرن کے ایم ڈی نے بتایا کہ گیس کی قلت کی وجہ سے گیس کوٹہ میں اضافہ فی الوقت ممکن نہیں۔ نگران وفاقی وزیر بیرسٹر سید علی ظفر نے تجویز دی کہ اپٹما متعلقہ محکموں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھے اور جامع تجاویز مرتب کرے تاکہ اس شعبہ کو درپیش مسائل کو کم از کم حد تک لایا جا سکے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ ٹیکسٹائل کے شعبہ کی شرح نمو بڑھانے اور اس کی ترقی کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔