مسلم لیگ ن یا نوازشریف کونقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا

مجھ سے منسوب خبریں جعلی ہیں،اختلاف نوازشریف سے ہے،اختلافات سے متعلق بات کسی اورکی یا ان کی بیٹی کی نہیں کررہا،4حلقوں سے آزادحیثیت میں الیکشن لڑرہاہوں، شیخ رشید سے کہہ چکا میں کسی آوارہ بس کا مسافر نہیں ہوں،سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق میراکسی پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار کی پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ جون 17:37

مسلم لیگ ن یا نوازشریف کونقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔22 جون 2018ء) : پاکستان مسلم لیگ ن کے ناراض مرکزی رہنماء چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ن لیگ یا نوازشریف کونقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا، مجھ سے منسوب خبریں جعلی ہیں، نوازشریف سے اختلاف کے باعث وزارت چھوڑی،اختلافات سے متعلق بات کسی اورکی یا ان کی بیٹی کی نہیں کررہا،4 حلقوں سے آزادحیثیت میں الیکشن لڑرہاہوں، شیخ رشید سے کہہ چکا میں کسی آوارہ بس کا مسافر نہیں ہوں، سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق میراکسی پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پریس کانفرنس کابنیادی مقصد یہ ہے کہ میرے متعلق خبریں جب سے آرہی ہیں مختلف ٹی وی چینلزانٹرویو کرنا چاہتے ہیں۔ایک آدمی کس کس کوانٹریو دے سکتا ہے؟ انہوں نے کہاکہ آج سے 10روزقبل جعلی خبر جاری ہوئی۔

(جاری ہے)

اس میں کہیں حوالہ نہیں دیا گیا کہ میں وہ باتیں کہاں کیں، کس کے ساتھ کیں۔خبرکس نے دی اور کہاں دی۔

لیکن طوفان مچ گیا۔میں نے کہاکہ پی ٹی آئی میں 10تومسلم لیگ ن میں 100غلطیاں ہیں۔زبان کھولوں گا،میاں صاحب منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔میں نے فوری اس کی تردید بھی کی۔انہوں نے کہا کہ میں نے یہ ضرور کہا تھا کہ میں اپنی چکری میں پہلی تقریر میں میاں نوازشریف کے ساتھ ہونے والے تحفظات سے متعلق بات کروں گا۔لیکن میں نے فیصلہ کیا کہ کلثوم نواز کی طبیعت کے باعث اب بات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

میں نے کب کہا کہ یہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔میری تقریر کوبنیادبناکرطرح طرح کی باتیں کی گئیں۔انہوں نے کہاکہ میرے ساتھ بہت سی باتیں منسوب کی جارہی ہیں۔ میرا مسلم لیگ ن کے ساتھ سیاسی اختلاف ضرور ہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت نارمل حالات نہیں ،4حلقوں سے الیکشن لڑرہا ہوں۔۔الیکشن مہم میں ہوں۔میں صرف اللہ اور حلقے کی عوام کی طرف دیکھ رہاہوں۔

میرا حلقے کی عوام سے رشتہ بہت پرانا ہے۔میراتعلق 1985ء سے ہے۔25جولائی کوعوام کافیصلہ سب کے سامنے آجائے گا۔۔نوازشریف کے ساتھ میراتعلق 33سال رہا ہے۔میں نے ہمیشہ مخلص مشورہ دیا ہے۔میرے نزدیک وفاداری یہ نہیں کہ لیڈرجوکہے جی جی کہتے رہو۔اصل وفاداری یہ ہے کہ حقائق سامنے رکھو۔انہوں نے کہاکہ میں نوازشریف کی بات کررہاہوں۔میں ان کی بیٹی کی بات نہیں کررہاہوں۔

کیونکہ فیصلہ نوازشریف لیڈرنے کرنا ہے۔اختلافات کی بات کسی اور کی نہیں صرف نوازشریف کی بات کررہاہوں۔جب نوازشریف کیساتھ اختلافات بڑھ گئے تومیں نے خود کووزارت سے الگ کردیا۔۔ن لیگ یا نوازشریف کونقصان پہنچانے کاسوچ بھی نہیں سکتا۔بوجھل دل کے ساتھ نوازشریف کوصدارت کا ووٹ دیا۔۔چوہدری نثار نے کہاکہ شاہد خاقان اور شہبازشریف میرے پاس آئے لیکن میں نے ان سے کابینہ کا حصہ بننے سے معذرت کرلی۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید سے کہہ چکا ہوں کہ میں کسی آوارہ بس کا مسافر نہیں ہوں۔بس مس کرنے کا تعلق ہے تومیں کسی بس کامتلاشی نہیں ہوں۔میں اپنے طرز کی سیاست کرتاہوں۔سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق میراکسی پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔