بھارتی مظالم بارے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بعدبین الاقوامی برادری کشمیر کے حوالے سے خاموش تماشائی کا کردار ترک کرکے ہندوستان کی باز پُرس کرے، سردار مسعود خان

صدر آزادجموں و کشمیر کی کشمیر کمیٹی سویڈن کے جنرل سیکرٹری اور ممتاز سماجی کارکن تیمور عزیز سے بات چیت

جمعہ جون 23:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) صدر آزاد جموںکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں جاری حالیہ رپورٹ جس میں مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں ، انسانی ہلاکتوں، اذیتوں اور جسمانی و جنسی تشدد کا تفصیلاًذکر ہے کے بعد بین الاقوامی برادری کشمیر کے حوالے سے اب خاموش تماشائی کا کردار ترک کرکے ہندوستان کی باز پُرس کرے۔

صدر آزادجموں و کشمیر نے ان خیالات کا اظہار کشمیر کمیٹی سویڈن کے جنرل سیکرٹری اور ممتاز سماجی کارکن تیمور عزیز سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جنہوں نے صدر مسعود خان سے جمعہ کویہاںصدارتی بلاک کشمیر ہائوس اسلام آباد میں ملاقات کی ۔

(جاری ہے)

سردار تیمور عزیز نے صدر کو بیرون ملک تارکین وطن کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے کی جانیوالی کاوشوں سے آگاہ کیا ۔

انہوں نے کہا کہ سویڈن میں موجود تارکین وطن اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اوروہ انتہائی متحرک طریقے سے سویڈش پارلیمنٹ کے ممبران کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے فعال اور مصروف بنایا ہوا ہے۔سردار تیمور نے کہا کہ سویڈن انتہائی فعال اور متحرک انداز میں پوری دنیا میں انسانی حقوق کی صورتحال کو دیکھتا ہے اور حال ہی میں سویڈش پارلیمانی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے آزادکشمیر میں آنے میں دلچسپی کا اظہار کیاہے۔

صدر نے سویڈن میں موجود پاکستان اور آزادکشمیر کے تارکین وطن کے متحرک کردار کی تعریف کی اور کہا کہ تارکین وطن مسئلہ کشمیر پر سویڈش عوام کو اور حکومت کو مصروف کر رہے ہیں اور پاکستان اور سویڈن کے تعلقات کو فروغ دے کر مضبوط اور انتہائی مستحکم بنا رہے ہیں ۔صدر نے کہا کہ ان کے حالیہ دورہ سویڈن کے دوران اُن کی سویڈش وزیراعظم سٹیفن لاون سے بھی مختصر ملاقات ہوئی اور چئیرمین و سویڈش ممبران پارلیمنٹ برائے انسانی حقوق سے بھی ملے اور انہیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کیا ۔

صدر نے سویڈش پارلیمانی کمیٹی برائے انسانی حقوق کو آزادکشمیر کا دورہ کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ وہ یہاں آکر خود اپنی آنکھوں سے انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیں کہ کس طرح آزادکشمیر کے لوگ پرُامن ، باوقارطریقے سے زندگی گزار رہے ہیں اور اُن کے انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کی جا رہی ہے ۔صدر نے کہا کہ ہندوستان کو فوری طور پر اس کمیشن کو کشمیر تک رسائی دینی چاہیے اور اس تجویز کو مسترد کر کے وہ بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کو خفت کا سامنا کرنے سے بچائے ۔