جتنے بھی ازخود اقدامات لیے ہیں وہ سب بنیادی حقوق سے متعلق ہیں، جسٹس میاں ثاقب نثار

بنیادی حقوق کا نفاذ آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت اعلیٰ عدلیہ اور عدالت عظمیٰ کے حقیقی دائرہ کار میں آتا ہے، عوامی مفادات کیلئے ازخود اقدامات لے رہے ہیں، کوئی یہ نہ سمجھے کو ہم کسی کو شکار بنا رہے ہیں، سندھ ہائی کور ٹ بار سے خطاب

ہفتہ جون 21:06

جتنے بھی ازخود اقدامات لیے ہیں وہ سب بنیادی حقوق سے متعلق ہیں، جسٹس ..
سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جتنے بھی ازخود اقدامات لیے ہیں وہ سب بنیادی حقوق سے متعلق ہیں، بنیادی حقوق کا نفاذ آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت اعلیٰ عدلیہ اور عدالت عظمیٰ کے حقیقی دائرہ کار میں آتا ہے، عوامی مفادات کیلئے ازخود اقدامات لے رہے ہیں، کوئی یہ نہ سمجھے کو ہم کسی کو شکار بنا رہے ہیں۔

سکھر میں سندھ ہائی کور ٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ صحت کے متعلق الزام نہیں لگا رہا کہ کس نے ذمیداری پوری نہیں کی، بنیادی حقوق کے نفاذ اور خلاء کو پورا کرنے کیلئے مداخلت کرنی پڑی، کیونکہ شکایات ملیں کہ ہسپتالوں میں آئی سی یو، وینٹیلیٹرز اور دیگر سہولیات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے مسئلے پر سندھ کے سپوت امیر ہانی مسلم کے کام کے مثبت اقدامات تین چار ماہ میں سامنے آجائیںگے، منچھر جھیل پر پانی کے مسئلے کے متعلق حکومت نے 14ارب روپے کا تخمینہ لگایاتھا، خوشخبری دے رہا ہوں کہ سپریم کورٹ اور امیر ہانی مسلم کی کوششوں سے ایک پیسہ بھی خرچ کئے بغیر مسئلہ حل ہوچکا ہے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا میں قوموں نے تعلیم،، لیڈرشپ کوالٹی اور غیرجانبدار عدالتی نظام کو فوکس کرتے ہوئے ترقی کی ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے آج تک جو بھی ازخود اقدامات لئے ہیں وہ انہیں تین چیزوں سے منسلک ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا ایک سیکٹر قانونی اصلاحات کیلئے کام کررہا ہے کیونکہ بہت سارے قوانین آج شاید وقت کی ضروریات کو پورا نہیں کررہے، فوری انصاف اور عدالتی اصلاحات صرف ججز کا کام نہیں، بار اور عدلیہ ایک جسم کے دو لازم ملزوم حصے ہیں، بار کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس میان ثاقب نثار نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ الیکشن قریب ہے وہ کسی سیاسی بیان بازی یا سیاسی تاثر نہیں دینا چاہتے، آر اوز عدلیہ سے اس لئے نہیں دیے کہ ان کی تذلیل ہو، ہم غیرجانبدار ہیں اور کسی سے سیاسی غرض نہیں، تنبیہ کر رہا ہو کہ ججز کے خلاف غیرضروری شکایات اور بیانبازی سے گریز کیا جائے، ہم عزت کرتے ہیں تو سیاسی لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ عدلیہ کی عزت کریں، کسی آر او کے خلاف شکایات ہو تو وہ تحریری طور پر دیں کسی بھی جڈیشل افسر نے بطور رٹرننگ آفیسر کے فرائض بہتر نہیں نبھائے تو ان کے خلاف کاروائی کی جائیگی، البتہ اس قسم کی بیان بازی برداشت نہیں کی جائیگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ان سے ام رباب نے ملاقات کے جس کے خاندان سے بڑا سانحہ پیش آیا ہے، ام رباب کے ساتھ اپنی بچیوں کی طرح انصاف کیا جائیگا، انہوں نے اے ٹی سی کورٹ کے جج کو ام رباب کیس کو 2ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سکھر میں اتنا مان اور مرتبہ ملنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے اس کے ساتھ سکھر بار کیلئے بھی یہ اعزاز ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اگر کسی بار میں گئے ہیں تو سکھر وہ پہلی بار ہے۔

قبل ازیں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ مسٹر جسٹس احمد علی ایم شیخ نے یقین دہانی کرائی کی آئندہ ایلیویشن میں سکھر ہائی کورٹ بار کو نظرانداز نہیں کیا جائیگا اور وہ بہت جلد ترقیاتی کمیٹی کے ہمراہ سکھر پنہچ کر کورٹ رومز میں اضافے اور بار روم کا مسئلہ حل کریگا۔ استقبالیہ خطاب میں سکھر ہائی کورٹ بار کے صدر قربان ملانو نے کہا کہ ہائی کورٹ کیلئے نئی عمارت اور بار کیلئے پلاٹ دیا جائے، ججز کی بھرتی میں سکھر بار کو نظرانداز نہ کیا جائے۔

تقریب میں سندھ ہائی کورٹ کے سینئر ججز مسٹر جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو، مسٹر جسٹس صلاح الدین، مسٹر جسٹس محمد اقبال مہر، مسٹر جسٹس عبدالرشید سومرو، مسٹر جسٹس فہیم احمد صدیقی، مسٹر جسٹس عدنان اقبال چوہدری، رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب محمد عارف، کمشنر سکھر ڈویژن منظور علی شیخ، ڈی آئی جی سکھر ذوالفقارلاڑک، سیکریٹری صحت محمد عثمان چاچڑ، ڈی سی سکھر رحیم بخش میتلو، ایس ایس پی سکھر شیراز احمد، بڑی تعداد میں وکلا برادری اور معززین بھی موجود تھے۔#