ندیم کشیش نامی خواجہ سراہ عام انتخابات میں حصہ لینے شہر کی پہلی خواہ سراہ بن گئی

انتخابات میں صرف ہماری شرکت سے ہی جمہوریت مکمل ہوگی خواجہ سراؤں کی رائے

پیر جون 15:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) خواجہ سراؤں نے رائے ظاہر کی ہے کہ انتخابی عمل میں ان کی شمولیت سے ہی جمہوریت مکمل ہوگی میڈیا رپورٹس کے مطابق ندیم کشیش نامی کواجہ سراہ جو کہ حلقہ این ای53 کے پڑوس میں رہائش پزیر ہے اس نے حلقہ این اے 53 سے عام انتخابات میں حصہ لینے کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کروائے اور عام انتخابات میں حصہ لینے والے شہر کی پہلی خواہ سراہ بن گئی یہ وہی حلقہ ہے جس میں پارلیمنٹ ہاؤس ،،سپریم کورٹ اور دارلحکومت کی دیگر شہری علاقے شامل ہیں ملک کے اہم ترین حقلے این اے 53سے کشش نے انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سال اس حلقے سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پی ٹی سے ناراض ہونے والی عائشہ گلالئی نے انتخابات لڑنے کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں کشیش کوچھوٹی عمر میں ہی گھر سے نکال دیا گیا اور اس کی زندگی کا سفر بدسلوکی اور سانحوں سے بھرا پڑا ہے سالوں سے وہ ریڈیو ایف ایم 99 اور اپنی تنظیم شی میل ایسوسی ایشن فار فنڈامنیٹل رائٹس (safar)سافر کے ذریعے پاکستانی خواجہ سراؤں کیلئے زندگی گزارنے کے حقوق کو اجاگر کرنے میں جدوجہد کررہی ہے کشیش نے بتایا کہ خواجہ سراؤں کو غربت بے روز گاری تعلیمی مواقع اور محفوظ رہائش کے فقدان کا سامنا کرنا پڑتا ہے خواجہ سراؤں کو ریاست نے ابھی تسلیم کیا ہے لیکن یہ صرف شروات ہے ہم معاشرے میں رہنے کی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے میری لڑائی ان خواتین کیلئے ہے جو حقوق سے محروم ہیں اور وہ جو جنسی تعلق کے طور پر کام کرتے ہیں اور سڑک پر رہنے والے بچوں اور تمام اقتلیتوں کیلئے ہے ان تمام لوگوں کو عصمت دری اور قتل کردیا جاتا ہے اور ان کو عدالتوں تک رسائی سے انکار کردیا جاتا ہے لیکن کشیش کیلئے انتخابات میں جیت حاصل کرنا ہی سب کچھ نہیں ہے بلکہ تبدیلی کیلئے قدم اٹھاکر اور انتخابات میں حصہ لے کر ہی وہ جیت چکی ہے انہوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لینے والی خواجہ سرا کی عوام بھرپور سپورٹ کری