راو انوار کے گھر کو سب جیل قرار دینے کے خلاف درخواست کی سماعت 29 جون تک ملتوی

پیر جون 17:09

راو انوار کے گھر کو سب جیل قرار دینے کے خلاف درخواست کی سماعت 29 جون تک ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) سندھ ہائیکورٹ نے نقیب اللہ قتل کیس میں راو انوار کے گھر کو سب جیل قرار دینے کے خلاف درخواست کی سماعت 29 جون تک ملتوی کردی ۔

(جاری ہے)

پیر کو سابق ایس ایس پی ملیر راو انوار کے گھر کو سب جیل قرار دینے کے خلاف درخواست کی سماعت سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی جہاں نقیب اللہ کے والد کے وکیل بیرسٹر فیصل صدیقی نے راو انوار سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ راو انوار کو غیر قانونی طور پر اپنے گھر میں رکھا گیا ہے ،راو انوار اپنے گھر میں رہ کرکیس کے گواہوں پر اثرانداز ہورہے ہیں،راوانوار نقیب اللہ کیس کے گواہوں کو حراساں کررہے ہیں،راوانوار کو سب سے نکال کرجیل منتقل کیا جائے،راو انوار کو وی آئی پی پروٹوکول دیا جارہا ہے جیل منتقل کرکے ملزمان کی طرح سلوک کیاجائے، راو انوار کے وکیل کے جونیئر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ راو انوار کے وکیل عابد ایس زبیری ملک سے باہر ہیں، ہیش ہونے کے لیے مہلت دی جائے، عدالت نے فریقین کے وکلا کو 29 جون کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیتے یوئے سماعت ملتوی کردی ، سماعت کے بعد جرگہ عمائدین نے سندھ ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زرداری کا بہادر بچہ ہمارے بچوں کو قاتل ہیسندھ حکومت را انوار کو ہر سہولت دے رہی ہے،کیا وجوہات ہیں کہ 424 افراد کے قاتل کو جعلی نوٹیفیکیشن سے سب جیل منتقل کیا گیا،را انوار کو جس طرح اپنے گھر میں رکھا گیا اسکی مثال پاکستان میں نہیں ملتی،شاہانہ پروٹوکول کے ساتھ را انوار کو پیش کیا جاتا ہے،ہماری زمینوں پر قبضہ کر لیا گیا اور قبرستان بھر دئیے گئے،را انوار روز ملیر میں چار چار بے گناہ لوگوں کو قتل کرتا رہا،اب را انوار کی خام خیالی ہے کہ وہ ہمیں زیر اعتاب لے آئے گا