پاکستانی قوم کے لیے ترکی کے انتخابات بہترین مثال ہیں،راشد نسیم

عوام تبدیلی کے نعرے پر دھوکے میں آنے کی بجائے متحدہ مجلس عمل کو کامیاب کرائے ،متحدہ مجلس عمل کے جلسہ سے خطاب

پیر جون 22:15

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان راشد نسیم نے گلبرگ لان میر پور خاص میں متحدہ مجلس عمل کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستانی قوم کے لیے ترکی کے انتخابات بہترین مثال ہیں ۔ 25 سال قبل ترکی تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا ۔ مسجدوں کو تالے لگا دیے گئے تھے لوگ اذان کی آواز سننے کو ترس گئے تھے ۔ خواتین سکرٹ پہننے پر مجبور تھیں ۔

تندوروں پر روٹی کے لیے لوگو ں کی لمبی قطاریں تھیں اور ترکی کرنسی ’’ لیرا‘‘ ایک ڈالر کے بدلے ٹوکرا بھر کر آتی تھی لیکن جب ترک عوام اسلام کی طرف پلٹے اور سیکولر اور لبرل قیادت کی بجائے اسلامی قیادت کو منتخب کیا ، اللہ تعالیٰ نے ترقی اور خوشحالی کے دروازے کھول دیے ۔ وہ ترکی جو دنیا بھر کا مقروض تھا ، آج دنیا کی دسویں بڑی معیشت بن چکاہے اور کئی غریب ممالک کو قرضے اور امداد دے رہاہے ۔

(جاری ہے)

راشد نسیم نے کہاکہ اگر پاکستانی قوم ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالنا چاہتی ہے تو اسے ترک عوام کی طرح اسلام کی طرف پلٹنا اور دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کے امیدواروں کا ساتھ دینا ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ حکمران رہنے والی پارٹیوں اور تبدیلی کے دعویداروں کے پاس قوم کی بگڑی بنانے اور مسائل کی دلدل سے نجات دلانے کا کوئی ایجنڈا نہیں ۔

ملک میں دو سو کے قریب کرپٹ اور بد دیانت الیکٹ ایبلز ہیں وہ جس پارٹی میں چلے جاتے ہیں ، وہ اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہو جاتی ہے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کہا جاتاہے کہ حکومت بدل گئی ہے حالانکہ وہی دو سو جاگیردار ، وڈیرے اور سرمایہ دار اسمبلیوں میں ہوتے ہیں اور تمام فیصلے انہی کے ہاتھ کھڑے کرواکر کیے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ستر سال سے ملک کے ساتھ یہی تماشا ہورہاہے ۔ عوام تبدیلی کے نعرے پر دھوکے میں آنے کی بجائے متحدہ مجلس عمل کو کامیاب کرائے ۔