سیاسی کارکن کسی کوہمارے سیاسی حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے، لشکری ریئسانی

سرزمین کے وارث ہونے کا تقاضا ہے کہ یہاں آباد اقوام مشترکہ جدوجہد کے ذریعے بلوچستان کو لوٹنے والے غاصبوں کا راستہ روکیں، اگر ایسا نہیں کیا تو ہم آئندہ پانچ سال ظلم جبر ناانصافی کرپشن کوبرداشت کرتے ہوئے بھینس کے آگئے بین بجاتے رہیں گے ، انتخابی مہم سے خطاب

منگل جون 22:00

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ میر حاجی لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ سیاسی کارکن کسی کوہمارے سیاسی حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ سرزمین کے وارث ہونے کا تقاضا ہے کہ یہاں آباد اقوام مشترکہ جدوجہد کے ذریعے بلوچستان کو لوٹنے والے غاصبوں کا راستہ روکیں۔ اگر ایسا نہیں کیا تو ہم آئندہ پانچ سال ظلم جبر ناانصافی کرپشن کوبرداشت کرتے ہوئے بھینس کے آگئے بین بجاتے رہیں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز انتخابی مہم کے سلسلے میں منعقدہ اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نوابزادہ لشکری رئیسانی نے پارٹی کے امیدوار طاہرہزارہ ،حاجی دلیر خان کی رہائش گاہوں پرجاکرلوگوں سے ملاقاتیں کیں ۔

(جاری ہے)

ٹکری میرہزار خان ، میر داؤد خان ، حاجی غلام علی کی قیادت میں سینکڑوں افراد نے صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں پرنوابزادہ لشکری رئیسانی کی حمایت کا اعلان کیا ۔

نوابزادہ لشکری رئیسانی اور نوابزادہ میر سخی جان رئیسانی نے ٹریفک حادثہ میں زخمی ہونے والے پارٹی کے سنیئر رہنما وڈیرہ محمد اسلم لہڑی کی عیادت کی۔ اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے نوابزادہ لشکری رئیسانی کا کہنا تھا کہ ذاتی مفاد کے حصول کیلئے سیاست کے قائل نہیں ان لوگوں کا راستہ روکنے کیلئے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ 25 جولائی کو سیاسی کارکنوں کا امتحان ہے اس دن پرامن سیاسی جمہوری جدوجہد کے ذریعے سیاسی کارکن اپنے مستقبل کا فیصلہ ووٹ کی پرچی کی طاقت سے سابق حکومت کا احتساب اور آئندہ حکومت کا انتخاب کرینگے ۔

ان کا کہنا تھاکہ ہر مرتبہ انتخابات میں صدیوں سے آباد اقوام نے اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کی وجہ سے ان لوگوں کو حکمرانی کا موقع فراہم کیا ہے جنہوں نے تفرقہ کی بنیاد پر قومیتوں کے درمیان تعصب کی فضا ء کو ہواد ی ۔ریکوڈک اور گوادر کو بیچ کر دبئی اور لندن میں جائیدادیں بنائیں۔ان کا کہنا تھا کہ25 جولائی تک سیاسی کارکنوں کو اپنی آئندہ نسلوں کی خوشحالی کیلئے دن رات ایک کرنا ہوگا تاکہ ان لوگوں سے عوام کی جان چھڑائی جاسکے جو اپنے بدترین سیاہ کردار سے صوبے کے مسائل میں اضافہ کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر بلوچ، پشتون فساد کو بنیاد بناکر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کوووٹ کے بدلے دودھ اور شہد کی نہریں بہا کر دینے کا وعدہ نہیں کرتا یہ وعدہ ضرور کرتاہوں کہ اگر عوام کی خدمت کرکے ووٹ کا قرض ادا کرنے میں ناکامی محسوس کی تو اپنا استعفیٰ حلقہ کے عوام کو دونگا ۔ دریںاثنا ساراوان ہائوس میں کوئٹہ کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے علاقائی اور قبائلی معتبرین نے نوابزادہ لشکری رئیسانی سے ملاقات کرکے انہیں اپنے اپنے علاقوں کے دورے کی دعوت اور حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے ۔