پاکستان مسلم لیگ ن ،تحریک انصاف کی مقبولیت سے پریشان

پاکستان مسلم لیگ ن نے تحریک انصاف کو شکست دینے کے لیے متحدہ مجلس عمل سے خفیہ رابطے شروع کر دئیے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس بدھ جون 20:25

پاکستان مسلم لیگ ن ،تحریک انصاف کی مقبولیت سے پریشان
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-27 جون 2018ء) ::پاکستان مسلم لیگ ن ،،تحریک انصاف کی مقبولیت سے پریشان ہوگئی۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے تحریک انصاف کو شکست دینے کے لیے متحدہ مجلس عمل سے خفیہ رابطے شروع کر دئیے۔تفصیلات کے مطابق الیکشن 2018 کو پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین الیکشن سمجھا جارہا ہے۔اس الیکشن کی خاص بات یہ ہے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں پہلی مرتبہ ایسا ہوگا کہ انتقال اقتدار جمہوری انداز سے تیسری حکومت کے سپرد ہوگا۔

اس الیکشن کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کہ اس الیکشن میں بہت سی سیاسی جماعتوں کا سیاسی مستقبل بھی طے ہو گا بالخصوص مسلم لیگ ن اور پاکستان کی ابھرتی ہوئی سیاسی طاقت تحریک انصاف۔۔ دونوں جماعتوں نے ہی اس الیکشن کو بڑا سیاسی معرکہ سمجھ کر سیاسی جنگ شروع کر دی ہے۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ ن کو ایک بڑا دھچکا یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف تاحیات پارلیمانی سیاست سے نااہل ہو چکے ہیں تاحال وہ ابھی بھی مسلم لیگ ن کی انتخابی کمپئین چلانے میں آگے آگے ہیں ۔

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نہ صرف پارلیمانی سیاست میں زندہ ہیں بلکہ وہ بھرپور انداز میں الیکشن لڑ کر اس مرتبہ ملک میں تحریک انصاف کی حکومت بھی قائم کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس حوالے سے کافی پر امید بھی ہیں۔۔تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں بھرپور انتخابی مہم کا اعلان کردیا ہے۔دوسری جانب مسلم لیگ ن بھی تحریک انصاف کی مقبولیت سے پریشان ہے اور انہوں نے تحریک انصاف سے بھرپور مقابلہ کرنے کی حکمت عملی بنا لی ہے۔

تازہ ترین خبر کے مطابق مسلم لیگ ن نے تحریک انصاف کو شکست دینے کے لیے اہم ترین سیاسی و مذہبی اتحاد ایم ایم اے سے خفیہ رابطے شروع کر دئیے ہیں۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی نشستوں پرسیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے شاہد خاقان عباسی نے ایم ایم اے امیدوارمیاں اسلم سمیت دیگررہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اگرمیاں اسلم این اے 53 سے کاغذات نامزدگی واپس لیں تواین اے 54 میں ان کی حمایت کی جاسکتی ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے این اے 53 اوراین اے 54 میں ملکرانتخابات لڑنے کی پیش کش بھی کی-ذرائع کے مطابق میاں اسلم نے پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد جواب دینے کا کہا ہے۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں متحدہ مجلس عمل اورن لیگ کے اتحاد سے تحریک انصاف کوٹف ٹائم مل سکتا ہے،اگرمسلم لیگ ن اورمتحدہ مجلس عمل کے درمیان اتحاد ہوگیا تو دونوں جماعتوں کی حلقہ 53 اور54 میں پوزیشن مستحکم ہوجائے گی۔