بلوچستان میں متعدد ترقیاتی منصوبے کرپشن کی نذر ہوئے اگر کرپشن نہ ہوتی تو صوبے کی قسمت بدل جاتی، جسٹس (ر) جاوید اقبال

اگر کسی سے بدعنوانی سے متعلق سوال کرنا گستاخی ہے تو نیب قانون کے مطابق یہ گستاخی کرتا رہیگا،بلوچستان خزانہ کیس میں عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہم اُمید کرتے ہے نیب کی بدولت جو رقم اور املاک بلوچستان حکومت کے حوالے کی گئی ہیں انہیں عوام کی بہتری کیلئے استعمال کیا جائیگا۔ چیئرمین نیب جسٹس

بدھ جولائی 18:31

بلوچستان میں متعدد ترقیاتی منصوبے کرپشن کی نذر ہوئے اگر کرپشن نہ ہوتی ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جولائی2018ء) چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہمارے مسائل کی بنیادی وجہ کرپشن کا دیمک اور زہر ہے جو قوم کی رگوں میں سرایت کر چکا ہے۔ کرپشن کے خاتمے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرور ت ہے ، کرپٹ عناصر سے اُنکی کرپشن سے متعلق سوال کرنا سیاست نہیں عبادت سمجھتا ہوں ، کوئی انتقامی کاروائی نہیں کی جا رہی، الیکشن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ، سیاست دان ہو ، بیورو کریٹ یا عام شخص سب کی عزت نفس اور ساکھ کا احساس ہے ، کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھایا جائے گا کہ جس میں انتقام کا عنصر شامل ہو، نیب کا ہر قدم قانون اور آئین کے مطابق اُٹھا یا جا رہا ہے ، جس کام کی لاگت 5 ہزار ہواور اس پر 5 لاکھ اور جسکی لاگت 5 لاکھ ہو اُس پر 5 کروڑ کا خرچہ کیوں آیا اگر کسی سے بدعنوانی سے متعلق سوال کرنا گستاخی ہے تو نیب قانون کے مطابق یہ گستاخی کرتا رہیگا، سب کا احتساب بلا تفریق ہو گا ، یا کسی کا نہیں ہو گا، بلوچستان کو ملنے والے فنڈز کاعشر عشیربھی بلوچستان کی ترقی پر خرچ ہوتا تو یہ محرومیاں نہ ہوتیں ۔

(جاری ہے)

بلوچستان محکمہ خزانہ کیس کی لوٹی گئی رقم کی واپسی کرپشن کے خلاف سفر کی ایک کڑی ہے اُمید ہے یہ رقم بلوچستان کے لوگوں کی فلاح کے لئے خرچ کی جائیگی۔ یہ بات انہوں نے نیب بلوچستان میں منعقدہ سیمینار اور بلوچستان حکومت کو بلوچستان خزانہ کیس میں اربوں روپے مالیت کی جائیدادوں کی دستاویز اور چابیاں حوالگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

ڈی جی نیب بلوچستان مرزا محمد عرفان بیگ، نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان علائوالدین مری ، چیف سیکرٹری بلوچستان اور آئی جی بلوچستان بھی اس موقع پر موجود تھے ۔قبل ازیں ڈی جی نیب بلوچتان مرزا محمد عرفان بیگ نے تقریب کے آغاز میں خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔۔چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا بلوچستان خزانہ کیس میں بلوچستان کی عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہم اُمید کرتے ہے کہ نیب کی بدولت جو رقم اور املاک بلوچستان حکومت کے حوالے کی گئی ہیں انہیں عوام کی بہتری کے لئے استعمال کیا جائیگا، ملکی معیشت حالت نزع میں ہے، بلوچستان میں متعدد ترقیاتی منصوبے کرپشن کی نظر ہوئے اگر کرپشن نہ ہوتی تو صوبے کی قسمت بدل جاتی، اربوں کی کرپشن کرنے والوں پر پھول نچھاور کئے جاتے ہیں جبکہ کرپٹ عناصر کے خلاف حق بات کرنے والوں پر تنقید۔

چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کرپشن کے خاتمے کے لئے کام کرنے والا ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہے ، اس ادارے کو بنانے کے مقصد کو ہر صورت بطریق احسان انجام تک پہنچایاجائیگا، اور ملک کی معیشت کو بہتربناتے ہوئے ترقی و خوشحالی کی راہ ہموار کی جائیگی۔انہوں نے بیور و کریسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے احساس ہے کہ بیورو کریسی کو کسی بھی نظام میں کلیدی حیثیت حاصل ہے، ہماری کوشش ہے کہ بیورو کریسی آئین کے مطابق کام کرے ہم بیورو کریسی سمیت کسی کے خلاف بھی کوئی انتقامی کاروائی نہیں کر رہے ہیں بلکہ تمام تر اقدامات کرپٹ عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے ہیں۔

انہوں نے کہا تمام ملک بالخصوص صوبہ بلوچستان کی بیورو کریسی کو نیب کا تعاون حاصل ہے اور رہیگا ، بیوروکریسی بلوچستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے ،تاہم نیب کی یہ آئینی و قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ متعلقہ ذمہ داران سے پوچھے کہ بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کے لئے جو فنڈ دئیے گئے کہاں گئے اور کہاں خرچ ہوئے تاکہ بلوچستان کی محرومیوں کا اذالہ ہو سکے، بلوچستان دیگر صوبوں کے برابر آئے ۔

اگر قوانین و ضوابط کے مطابق کام کیا جائے تو نیب کو کوئی شوق نہیں کہ آپ کو عدالت میں لے جائے اور آپکے کام میں مداخلت کرے۔انہوں نے کہا بلوچستان کو اللہ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے لیکن سیندک اور ریکوڈک جسے منصوبے جو بلوچستان اور ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری لا سکتے تھے اُن کا کیا حشر ہوا اس کے ہم سب ذمہ دارہیں، ذاتی مفاد کو ریاستی مفاد پر ترجیح نہ دی جاتی تو ان منصوبوں کا یہ حال نہ ہوتا ۔

مختلف عدالتوں میں یہ مقدمات کے موجود ہیں،ان منصوبوں سے کمانے کے بجائے ہم ان کا ہر جانہ دینے کی صورتحال سے دو چار ہیں۔ ان منصوبوں کے ذمہ داران کا بھی تعین کیا جا ئیگا۔ انہوں نے اظہار افسوس کیا کہ اس ملک میں لوگوں کی بڑی تعداد کو ایک وقت کا کھانہ میسر نہیں جبکہ دوسری جانب وہ لوگ بھی ہیں جن کے بیرون ملک اربوں کے اثاثے ہیں ۔ کیا ان سے سوال کرنا جائز نہیں۔

ملک 90 ارب ڈالر کا قرض دار ہے اس کا بنیادی وجوہات کرپشن ہی ہے۔۔چیئرمین نیب نے کہا کہ جمہوریت تو عوام کی خدمت کا نام ہے ، اگر عوام کی خدمت کی جاتی تو ہم 90 ارب ڈالر کے مقروض نہ ہوتے ، نیب کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں۔ کچھ لوگ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ اُن سے اُنکی کرپشن کے بارے میں پوچھا جائیگا۔انہوں نے کہا جمہوریت کا مقصد اور ہر قدم عوام اور جمہور کے لئے ہونا چاہئے یہ صرف چند طبقات تک محدود نہیں ہونا چاہئے ، انہوں نے کہا اب عوام باشعور ہو چکی ہے وہ اقتدار کی مسند پر بیٹھنے والوں سے سوال کر رہی ہیں کہ اُنکے مفادات کا کس قدر تحفظ کیا جا رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں متعدد ترقیاتی منصوبے کرپشن کی نظر ہوئے اگر چند منصوبے بھی پایہ تکمیل تک پہنچتے تو صوبے کی قسمت بدل جاتی قوم کی لوٹی ہوئی دولت کی کرپٹ عناصر سے واپسی کا عمل شروع ہو چکا ہے مشتاق رئیسانی کیس میںلوٹی گئی عوام کی دولت کی بلوچستان حکومت کو واپسی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔انہوں نے کہا بلوچستان خزانہ کیس میں بلوچستان کی عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہم اُمید کرتے ہے کہ نیب کی بدولت جو رقم اور املاک بلوچستان حکومت کے حوالے کی جارہی ہے انہیں عوام کی بہتری کے لئے استعمال کیا جائیگا۔

تقریب کے اختتام پر چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے بلوچستان خزانہ کیس میں ملزمان سے ریکور کی گئی جائیدادوں کی دستاویز اور چابیاں نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان علائوالدین مری کے حوالے کیں۔