40 سال تک ایک دوسرے کی جانی دشمن بنی رہنے والی 2 سیاسی جماعتوں نے دشمنی ختم کرکے انتخابی اتحاد قائم کرلیا

بہاولنگر میں پیپلز پارٹی کا مسلم لیگ ضیا کی حمایت کا اعلان، پیپلز پارٹی نے بہاولنگر میں کسی امیدوار کو میدان میں نہیں اتارا

muhammad ali محمد علی جمعرات جولائی 21:11

40 سال تک ایک دوسرے کی جانی دشمن بنی رہنے والی 2 سیاسی جماعتوں نے دشمنی ..
بہاولنگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جولائی2018ء) 40 سال تک ایک دوسرے کی جانی دشمن بنی رہنے والی 2 سیاسی جماعتوں نے دشمنی ختم کرکے انتخابی اتحاد قائم کرلیا، بہاولنگر میں پیپلز پارٹی کا مسلم لیگ ضیا کی حمایت کا اعلان، پیپلز پارٹی نے بہاولنگر میں کسی امیدوار کو میدان میں نہیں اتارا۔ تفصیلات کے مطابق انتخابات قریب آتے ہی کئی عجیب و غریب سیاسی اتحاد قائم ہونے لگے ہیں۔

کہیں سیاسی جماعتوں اور کالعدم تنظیموں کے درمیان اتحاد قائم ہو رہے ہیں، تو کہیں ایک دوسرے کی بدترین سیاسی جماعتیں بھی انتخابی اتحاد قائم کر رہا ہے۔ اب ایسا ہی ایک اور انتخابی اتحاد قائم ہوا ہے۔ 40 سال تک ایک دوسرے کے جانی دشمن بنی رہنے والی 2 سیاسی جماعتوں نے دشمنی ختم کرکے انتخابی اتحاد قائم کرلیا ہے۔

(جاری ہے)

پنجاب کے شہر بہاولنگر میں پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ضیا کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

پیپلز پارٹی نے ذوالفقار بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے والے ضیاء الحق کے صاحبزادے اعجاز الحق کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے بہاولنگر میں کسی امیدوار کو میدان میں نہیں اتارا۔ پیپلز پارٹی بہاولنگر کی ضلعی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ چونکہ پارٹی نے این اے 191 بہاولنگر میں سابق آمر ضیاالحق کے صاحبزادے اعجاز الحق کے مقابلے میں کسی امیدوار کو میدان میں نہیں اتارا، اس لیے ضلعی قیادت نے انتخابات میں مسلم لیگ ضیاء کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی الزام عائد کرتی ہے کہ پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر لٹکانے میں ضیاء الحق نے ہی مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ گزشتہ کئی انتخابات میں اعجاز الحق بہاولنگر کی مذکورہ نشست پر فتح حاصل کرتے آئے ہیں۔ اب اعجاز الحق کو پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کی حمایت بھی حاصل ہوگئی ہے۔ اس پیش رفت کو پاکستان کی سیاست میں انہوںی قرار دیا جا رہا ہے۔