خیر پور،کم سن لڑکے کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے والے 2 ملزم گرفتار

اتوار اگست 21:40

خیر پو ر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اگست2018ء) سندھ کے ضلع خیرپور میں کم عمر لڑکے کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے والے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا جس کی پھندہ لگی لا ش برآمد ہوئی تھی،ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سکھر آزاد خان نے میڈ یا سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا ہے کہ خیرپور میں پیٹرول پمپ کے برابر میں ٹائرپنکچر کی دکان میں رات دیر تک کام کرنے والے 12 سے 13 سال کی عمر کے ایک لڑکے کی پھندا لگی لاش دکان سے ہی برآمد ہوئی تھی، پولیس کو ایک راہگیر نے خبر دی تھی جس کے بعد لاش کو تحویل میں لے کرقانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

ڈاکٹرز نے بچے کے پوسٹ مارٹم کے بعد کہا ہے کہ بچے کو ہلاکت سے قبل جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے شواہد ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں جو ٹیسٹ کے لیے بھیج دیے جائیں گے، دکان کے مالک اور ایک ٹرک ڈرائیور کو حراست میں لیا گیا ہے جو اس رات وہی سوئے تھے،مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کم سن لڑکے کو خیرپور کی نیشنل ہائی وے گمبٹ میں پنکچر کی دکان میں مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا۔

(جاری ہے)

سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی)امجد جاوید سلیمی نے واقعے کا نوٹس لے کر ڈی آئی جی سکھر کو فوری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔آئی جی سندھ امجدجاوید سلیمی نے مزید ہدایات دیں کہ واقعے کی تفتیش کو انتہائی ٹھوس اور غیر جانب دارانہ بناتے ہوئے متاثرہ خاندان کو انصاف کی جلد سے جلد فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔