ْوزرائے خارجہ ملاقات سے پیچھے ہٹنے کا بھارتی فیصلہ آئندہ عام انتخابات کے موقع پر اندرونی سیاسی دبائو کا نتیجہ ہے، اگر بھارت رضامند نہیں ہے تو ہم کوئی غیرضروری جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کریں گے،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

ہفتہ ستمبر 11:00

ْوزرائے خارجہ ملاقات سے پیچھے ہٹنے کا بھارتی فیصلہ آئندہ عام انتخابات ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2018ء) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نیویارک میں آئندہ ہفتے ہونے والی وزرائے خارجہ ملاقات سے پیچھے ہٹنے کا بھارتی فیصلہ بھارت میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے موقع پر اندرونی سیاسی دبائو کا نتیجہ ہے، پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر 27 ستمبر کو نیویارک میں طے شدہ ملاقات کو منسوخ کرنے کے بھارتی فیصلہ سے متعلق میڈیا رپورٹس کے تناظر میں جمعہ کو نجی ٹی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے بھارت کے اندر تقسیم نظر آر رہی ہے۔

جہاں ایک گروپ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے جبکہ دوسرا سیاسی دبائو کے باعث ان مذاکرات کی مخالفت کر رہا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف مثبت تھا کیونکہ پاکستان بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنا کر خطے اور عوام کی بہتری پر توجہ مرکوز کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں مفاہمتی عمل پر پیشرفت بھی چاہتا ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے بھارتی ہم منصب کو لکھے گئے خط میں بھی بھارت کے ساتھ تعمیری مذاکرات پر زور دیا ہے جبکہ بھارت نے بھی 27 ستمبر کو وزرائے خارجہ ملاقات کے شیڈول کا اعلان کیا تاہم پاکستان پر الزام نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ ملاقات بھارت نے اندرونی سیاسی دبائو کے تحت ملتوی کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال ایک حقیقت ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے جس کے ثبوت دیئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس تنازعہ سے انحراف اس مسئلے سے انحراف کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ منفی تبصروں اور مضامین سے گھبرائے بغیر تنازعہ کے حل کیلئے مشکل صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے تیار تھی تاہم انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 29 ستمبر کو عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا موقف پیش کیا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی کسی کو اپنی اندرونی صورتحال کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا بلکہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کی کوششوں سے کامیابی سے دہشت گردی کو شکست دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی خط کا مثبت جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت رضامند نہیں ہے تو ہم کوئی غیرضروری جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دبائو ڈالنے کے حربے ناکام رہے ہیں اور اس سے خطے کی عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا جو لاکھوں کی تعداد میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر، سرکریک، سیاچن اور پانی جیسے سنجیدہ تنازعات ہیں جن کو حل کرنے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی ترجمان نے بھی دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات طے ہونے کو نیک شگون قرار دیا تاہم اب دیکھنا ہوگا کہ دنیا اس ملاقات کی منسوخی پر کیا ردعمل دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کبھی بھی نہ دوطرفہ مذاکرات کیلئے رضامندی ظاہر کی ہے اور نہ ہی کسی تیسری پارٹی کی شمولیت کو قبول کیا ہے تاہم پاکستان کسی کو زبردستی مذاکرات کی میز پر نہیں بٹھا سکتا۔ پاکستان میں سارک سربراہ اجلاس میں بھارت کے رضامند نہ ہونے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کے ایسے اقدامات سے نہ صرف پاکستان بلکہ سارک کے رکن ممالک پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ ان کے عوام کی بہتری میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔