پاکستان ریلوے کا تین نئی ٹرینیں چلانے کا فیصلہ

پاکستان ریلوے شیخ کی ہٹی نہیں قوم کا ادارہ ہے لوگوں کو بہتر سہولیات دینے کا عزم کررکھا ہے،وزیرریلوے پاکستان ریلویزکو 23ہزار ملازمین کی اشد ضرورت ہے،وزیراعظم سے اجازت لے کر میرٹ پر بھرتیاں کی جائینگی،لاہور سے کراچی جزوی ہیڈ کوارٹرز منتقل کریں گے، شیخ رشید کی صحافیوں سے گفتگو

ہفتہ ستمبر 21:48

پاکستان ریلوے کا تین نئی ٹرینیں چلانے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2018ء) پاکستان ریلوے نے تین نئی ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلی ایکسپریس ٹرین لاہور سے فیصل آباد، دوسری موہنجودوڑوایکسپریس اور تیسری ٹرین روہی ایکسپریس پنوں عاقل سے خانپور کے درمیان چلے گی۔ لاہور ۔ فیصل آباد کے درمیان چلنے والی نان سٹاپ ٹرین صبح 8 بجے لاہور سے فیصل آباد کے لیے روانہ ہوگی اور اسی طرح فیصل آباد سے دوپہر ڈھائی بجے لاہور کے لیے روانہ ہوگی۔

موہنجوداڑو ایکسپریس ٹرین لاڑکانہ، سہیون شریف اور جامشورو کے روٹ پر چلے گی یہ وہ علاقے ہیں جہاں غریب عوام کو سواری کی اشد ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر ریلویز شیخ رشید احمد نے ریلوے ہیڈکوارٹرزآفس لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساتوں ڈویژنوں میںریزرویشن آفس صبح 8سے رات 12بجے تک کھلے رہیں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ریلویزکو 23ہزار ملازمین کی اشد ضرورت ہے فی الحال دس ہزار ملازمین کو وزیراعظم پاکستان عمران خان سے اجازت لے کر میرٹ پر بھرتی کریں گے۔

وزیر ریلویز نے ملازمین کی بھرتی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے میں گارڈز اور ڈرائیورز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کریں گے اور حاضری بہتربنانے کے لیے بائیو میٹرک حاضری کا نظام متعارف کروائیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ گولڑہ ریلوے میوزیم کو فوڈ سٹریٹ اور پکنک سپاٹ بنانے کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کو دعوت دیں گے ۔انہوںنے کہا کہ ٹرینوں اور اسٹیشنوں پر وائی فائی کے لیے پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بہتر کام کے لیے میرٹ پر ٹینڈر کریں گے۔

ایم ایل ون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ایم ایل ون اورایم ایل ٹو ریلوے کی ریڑھ کی ہڈی ہے یہ دونوں ہماری ترجیحات میں شامل ہیں۔ ایم ایل ون سی پیک کا حصہ ہے اور اس منصوبے سے ٹرین کی سپیڈ کو 160کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتارتک ہوجائے گی۔وزیر ریلویز شیخ رشید احمد نے خوشحال خان ایکسیڈنٹ کے حوالے سے کہا کہ اس ٹرین کے حادثے کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو 30 ستمبر تک حادثے کی رپورٹ پیش کرے گی۔

وزیر ریلوے نے ریلوے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کار کسی بھی وقت ریلوے میں آ سکتے ہیںاور ریلوے کی ترقی میں اپنا کردار ادا سکتے ہیں۔ہم نے سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم کمیٹی بنائی ہے جس میں کمیٹی ممبران ہر جمعرات کو دوگھنٹے لاہور ہیڈکوارٹر ز میں بیٹھیں گے اس دوران سرمایہ دار افسران سے ملاقات کرکے اپنی تجاویز دے سکتے ہیں۔

آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے اس حوالے سے اپنی ویب سائٹ بھی بنالی ہے جس سے سرمایہ کار براہِ راست بھی رابطہ کرسکتے ہیں ۔ وزیر ریلویز شیخ رشید احمد نے کہا کہ ریلوے اسٹیشنوں پر صاف پانی کی فراہمی کے لیے فلٹریشن پلانٹ اور ایکسیلیڑلگانے کے حوالے سے ٹینڈر آئندہ ماہ کھولے جائیں گے۔انہوںنے مزید کہا کہ لاہور سے کراچی جزوی ہیڈ کوارٹرز منتقل کریں گے۔

پارسل اور گڈزٹرین کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وزیر ریلویز نے کہا کہ اس میںریلوے کو بہت کامیابی ملی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خالی ٹرین کہیں نہیں جائے گی بلکہ آدھی قیمت پر بھی ٹرین سے سامان کی ترسیل کریں گے۔ ریلوے میںجدید نظام کے تحت بجلی کی کھپت کی مانیٹرنگ کریں گے تاکہ پتاچل سکے کہ کتنی بجلی استعمال ہوئی ہے۔ پاکستان ریلوے شیخ کی ہٹی نہیں قوم کا ادارہ ہے لوگوں کو بہتر سہولیات دینے کا عزم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے کے دو تین پلاٹ فروخت کرنے جارہے ہیں جس کا فیصلہ وزیر اعظم پاکستان کریں گے، ا نہیں فروخت کرکے ریلوے کو اپنے پائوں پر کھڑا کیا جائے گا۔ خسارے پر بات کرتے ہوئے وزیر ریلویز کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے کو اس وقت 38ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے اور پچیس ارب روپے قرض ہے۔ پنشن کانظام بہتر ہوا ہے پنشنرز کی تعدادایک لاکھ سینتیس ہزار سے کم ہو کر ایک لاکھ انیس ہزارپر آگئی ہے۔ پنشنزز کی سہولت کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔