مولانا فضل الرحمان اپوزیشن کو اکٹھا کرنے کے لیے سرگرم

نواز شریف اور آصف زرداری کی ملاقات کروانے کے لیے کوششیں شروع کردیں

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعرات اکتوبر 20:39

مولانا فضل الرحمان اپوزیشن کو اکٹھا کرنے کے لیے سرگرم
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 11 اکتوبر 2018ء) :مولانا فضل الرحمان ایک بار پھر اپوزیشن کو اکٹھے کرنے کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں۔مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور سابق صدر آصف زرادری کی ملاقات کروانے کی کوششیں شروع کر دیں۔تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے لیے الیکشن 2018 ایک ڈراونا خواب بن کر ثابت ہوئے۔یہ انتخابات جہاں وزیراعظم عمران خان کے لیے نیک شگونی کا پیغام ثابت ہوئے وہیں مولانا فضل الرحمان کے لیے زوال کا پیغام لائے۔

الیکشن کے بعد مولانا نے انتخابات پر دھاندلی کا الزام لگا کر حلف اٹھانے سے انکار کرنے کے لیے اپوزیشن کو اکٹھا کیا تو اپوزیشن نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔14 اگست نہ منانے کا بیان دیا تو اس پر بھی شدید عوامی ردعمل دیکھنے کو ملا۔

(جاری ہے)

مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسعد الرحمان نے ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن لڑا تو اس میں بھی شکست ہوئی۔تاہم مولانا فضل الرحمان نے ہمت نہ ہارنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر حکومت کا بوریا بسترا گول کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ایک بار پھر اپوزیشن جماعتوں کا گرینڈ الائنس بنانے کے لئے سرگرم عمل ہوگئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف اور پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے صدرآ صف علی زرداری کے درمیان ملاقات کرانے کی کوشش کر رہے ہیں جو اپوزیشن جماعتوں کے آئندہ چند دنوں میں ہونے والے اجلاس میں ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن ایک طرف سیاسی جماعتوں سے رابطے کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف وہ دینی جماعتوں کی قیادت کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں دیہی حلقوں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں اپنی شرکت پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ اس اجلاس میں میاں نوازشریف کو بھی مدعو کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حکومتی طرز عمل مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو قریب تر کرنے کا باعث بن رہا ہے۔