نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت‘حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ضمنی ریفرنس پرسماعت جاری

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ نومبر 10:36

نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت‘حاضری سے استثنیٰ کی درخواست ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔09 نومبر۔2018ء) احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جاری ہے، نیب کے تفتیشی افسر اپنا بیان قلمبند کروا رہے ہیں. تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جج محمد ارشد ملک کررہے ہیں. نیب کے تفتیشی افسر محمد کامران آج مسلسل چوتھے روز اپنا بیان قلمبند کروا رہے ہیں‘ وکیل خواجہ حارث کمرہ عدالت میں موجود ہیں.

خواجہ حارث نے نوازشریف کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ سیکورٹی خدشات کے باعث نوازشریف پیش نہیں ہوسکتے. احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی. عدالت میں گزشتہ روز سماعت کے دوران کامران احمد نے نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کی کمپنیوں کی ملکیتی جائیداد کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ حسن نواز کی 18 کمپنیوں کے نام پر17 فلیٹس اوردیگرپراپرٹیز ہیں.

نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایک ایم ایل اے معصول ہوا ہے ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے. معاون وکیل کا کہنا تھا کہ خواجہ حارث اس پردلائل دیں گے، یہ کوئی طریقہ نہیں تفتیشی افسر کے بیان کے دوران نئی درخواست آگئی. واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے 17 نومبر تک کی مہلت دے رکھی ہے.

دوسری جانب اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ضمنی ریفرنس پرسماعت جاری ہے. احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ضمنی ریفرنس پرسماعت کررہے ہیں‘ استغاثہ کے گواہ طارق جاوید پرقاضی مصباح جرح کررہے ہیں. گواہ طارق جاوید نے سماعت کے آغاز پرعدالت کو بتایا کہ نیب نے براہ راست مجھے کوئی خط نہیں لکھا جس پر قاضی مصباح نے سوال کیا کہ کیا 23 اگست 2017 کوآپ 6 بارنیب آفس گئے تھے.

استغاثہ کے گواہ نے جواب دیا کہ نہیں، میں اس دن ایک بارنیب آفس گیا تھا۔

(جاری ہے)

پراسیکیوٹرنیب نے کہا کہ ان کا ازخود بیان نکال دیتے ہیں، کنفیوژن پیدا کررہا ہے. احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ ازخود بیان ہوناہی نہیں چاہیے اس کی جگہ ری ایگزامن ہونا چاہیے، وکیل نے کہا کہ درست کہہ رہے ہیں، گواہ کا بیان ختم ہونے پراستغاثہ کا کام ختم ہوجاتا ہے.

قاضی مصباح نے کہا کہ جرح میں گواہ نے صرف وہی بتانا ہوتا ہے جواس سے پوچھا جائے، استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ میرے فراہم کیے گئے کورنگ لیٹرکی بنیاد پر تفتیشی نے کورنگ میمو بنایا. یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر سابق صدر نیشنل بینک سعید احمد کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائرکی گئی تھی، عدالت نے ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظورکی تھی.