پاکستان کو صرف عوام کے نمائندے چلا سکتے ہیں ،لاڈلے نہیں اور حقیقی نمائندے ہم ہیں ، آصف علی زرداری

عوام کو حقیقی قیادت اور حکمران دستیاب نہیں جس کے باعث ملک مشکلات اور مسائل کا شکار ہے، سابق صدر مملکت اب وقت اسلام باد کے سوچنے کا ہے کہ پاکستان سندھ اسمبلی نے بنایا تھا اس سندھ کے عوام پر اسلام آباد کے بابو اعتماد نہیں کر رہے ، بدین میں خطاب

جمعرات نومبر 22:38

پاکستان کو صرف عوام کے نمائندے چلا سکتے ہیں ،لاڈلے نہیں اور حقیقی نمائندے ..
بدین(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کو صرف عوام کے نمائندے چلا سکتے ہیں ،لاڈلے نہیں اور حقیقی نمائندے ہم ہیں ،اسلام آباد والوں کے ہاتھوں سے بنائے ہوئے نمائندے پاکستان نہیں چلا سکتے،عوام کو حقیقی قیادت اور حکمران دستیاب نہیں جس کے باعث ملک مشکلات اور مسائل کا شکار ہے مختلف طاقتوں کی مدد آج کے حکمرانوں کو جو حاصل ہے ہمیں ان طاقتوں کی مخالفت کا سامنا تھا،اب وقت اسلام باد کے سوچنے کا ہے کہ پاکستان سندھ اسمبلی نے بنایا تھا اس سندھ کے عوام پر اسلام آباد کے بابو اعتماد نہیں کر رہے ۔

ذوالفقار آباد ایک کامیاب منصوبہ تھا جس سے سندھ اور ملک ترقی کرتا غیرملکی سرمایہ کاری ہوتی اور سمندر کا پانی خشکی کی جانب بڑھنے سے رک جاتا پر افسوس کچھ اپنوں اور پرایوں نے اس منصوبے کی مخالفت کی،وزیرعلیٰ سندھ کو بھی کہا ہے کہ اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے اقدام کئے جائیں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو بدین میں پر پیر آف لواری شریف پیر محمد صادق قریشی کے لواری شریف پیلس میں دیئے گئے ظہرانہ کے موقع پر پیپلزپارٹی کے رہنمائوں، کارکنوں اور جماعت لواری شریف کے مریدوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں جو مجھے معلوم نہیں، میری نظر میں پاکستان میں اپنا پیسہ بہت ہے، مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کو اعتبار نہیں ہے، آج گنگا الٹی بہہ رہی ، جس کا سب کو نقصان ہورہا ہے۔آصف زرداری نے کہا کہ کچھ دوستوں کو چاہیے کہ بے وقوف بنانا چھوڑ دیں، کسی نے کھیلوں میں حصہ لے لیا اور کرکٹ کا کھلاڑی بن گیا لیکن پاکستان کا لیڈر بننا اس سے اونچی بات ہے، مجھے سب سمجھ آرہی ہے کہ کون کیسے کیسے مدد کر رہا ہے، چاہے آپ کتنی مدد کر لیں، یہ جتنے بھی ہیں ان سے ہماری حکومت بہتر تھی اور ہے۔

انہوں نے کبھی خود کام نہیں کیا، کبھی دفتر میں نہیں بیٹھے۔ کاش ہمارے دور میں بھی ہماری ایسی مدد ہوتی خیر جان باقی تو انسان باقی۔پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ آج اردو میں اس لیے بات کررہا ہوں تاکہ اسلام آباد بھی سنے، ہم اسلام آباد یا پاکستان کے حق پر ڈاکا نہیں ڈالتے تو کوئی ہمارے سندھ کے حق پر بھی ڈاکا نہ ڈالے۔ اسلام آباد کو سوچنا چاہیے کہ انسان کی بڑی قیمت ہے، ذوالفقارآباد کو سمجھا نہیں گیا، اب سمندر کی نگلی زمین واپس دلوائیں گے۔

پاکستان کو عوام نے بنایا اور وہی اس کے اصل مالک ہیں، آپ نے اسے لڑ کر نہیں بنایا، وہ دن دور نہیں جب طاقتوں کو احساس ہوگا کہ پاکستان صرف عوام کے نمائندے چلا سکتے ہیں آپ کے ہاتھ کے بنائے ہوئے نہیں۔آصف زرداری نے کہا بدین کا ہر مسئلہ مجھے معلوم ہے پانی کی قلت اور سمندر برد ہونے والی زمینوں کا بھی معلوم ہے بدین کو نقصان اور لوٹنے والوں کا بھی آڈٹ ہو گا اور ان سے حساب لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا آج گنگا الٹی بہہ رہی ہے جس کا عوام کو نقصان ہو رہا ہے مجھے پتا ہے ان کی کون کون مدد کر رہا ہے ہمیں یہ مدد کبھی حاصل نہیں رہی.انہوں نے کہا آج کے حکمرانوں کو ابادگاروں کا احساس نہیں اجناس کی قیمت مناسب نہیں دے رہے۔آصف علی زرداری نے کہا کہ میں بدین کہ عوام کی مسائل سے آگاہ ہوں وہ حل ہوں گے،اس سے قبل اجتماع سے پیر آف لواری شریف پیر محمد صادق قریشی، صوبائی وزیر اسماعیل راہو، رکن قومی اسمبلی میر غلام علی تالپور اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔