شیخ رشید کا "گناہ ٹیکس" پر دلچسپ تبصرہ

میں گناہ ٹیکس سے بچ گیا ہوں کیونکہ گناہ ٹیکس کا نفاذ سگار پر نہیں بلکہ بیڑی والوں پر ہوتا ہے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات دسمبر 17:46

شیخ رشید کا
لاہور (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔06 دسمبر 2018ء) وزیر ریلوے شیخ رشید نے وزیر خزانہ اسد عمر کے خلاف سازشوں کا الزام لگا دیا میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں عمران خان کہتے رہے کہ مسئلے کا حل عسکری نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔

امریکا نے بھی اس بات کو مانا ہے کہ عمران خان کی سوچ ٹھیک تھی۔شیخ رشید نے مزید کہا کہ آئندہ سوموار کو عمران خان صبح سے شام تک بیٹھے رہیں گے۔تمام امور زیرِبحث آئیں گے اور کابینہ میں تبدیلی کا فیصلہ وزیراعظم عمران خان کو کرنا ہے۔اس دوران شیخ رشید سے گناہ ٹکیس سے متعلق سوال کیا گیا کہ تو انہوں نے کہا میں گناہ ٹیکس سے بچ گیا ہوں کیونکہ گناہ ٹیکس کا نفاذ سگار پر نہیں بلکہ بیڑی والوں پر ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

خیال رہے جب سے حکومت کی طرف سے سگریٹ پینے پر گناہ ٹیکس لگانے کا فیصلہ سامنے آیا تب سے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چڑھ گئی کچھ صارفین نے اسے مضحکہ خیز بیان قرار دےد یا ہے جب کہ کچھ صارفین نے حکومت کے اس فیصلے پر دلچسپ تبصرے بھی کیے ہیں۔ حکومت سگریٹ پر گناہ ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔گناہ ٹیکس سےجمع شدہ آمدن شعبہ صحت پر خرچ کی جائے گی۔

گناہ ٹیکس کے نفاذ سے سگریٹ مزید مہنگی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ گناہ ٹیکس آمدن وزیراعظم ہیلتھ پروگرام کے تحت استعمال ہو گی۔ وزارت صحت گناہ ٹیکس کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔فی سگریٹ پیکٹ پر 5 تا 15 روپے ٹیکس عائد کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اس گناہ ٹیکس کے نفاذ سے سالانہ اربوں روپے کی آمدن متوقع ہے۔

پاکستان سگریٹ پر گناہ ٹیکس کا نفاذ کرنے والا دوسرا ملک ہو گا۔ دوسری جانب حکومت نے کاربونیٹڈ مشروب پر بھی گناہ ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے جاری کردہ تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ میٹھے اور کاربونیٹڈ مشروبات بچوں کی صحت کے لیے مضر ہیں اور ان میں شوگر کا باعث بنتے ہیں ۔حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ 5 گرام سے زائد میٹھے مشروبات پر گناہ ٹیکس عائد ہو گا جبکہ 100 ملی لیٹر کے مشروب پر2 روپے ٹیکس عائد کیا جائے گا۔تاہم علماء نے ٹیکس کے نام کو غیرشرعی قرار دے دیا ہے۔ علمائے کرام نے حکومت کے اس اقدام کو شریعت کا مذاق قرار دے دیا۔