سپریم کورٹ کا نواز شریف کیخلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ24 دسمبر تک سنانے کا حکم

جمعہ دسمبر 16:44

سپریم کورٹ کا نواز شریف کیخلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ24 دسمبر تک سنانے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو نوازشریف کے خلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ 24 دسمبر تک سنانے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کے جج کی درخواست کو فوری سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کو عدالت طلب کیا ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں3 رکنی بنچ نے سماعت کی ۔

سماعت کے آغاز پر ہی چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ دونوں ریفرنسز پر بحث کہاں تک پہنچی، بحث کا وقت ہوتا ہے الف لیلی کی کہانی تو بیان نہیں کرنی ہوتی ، آپ نے ساری قوم اور عدلیہ کو محصور بنا کر رکھا ہوا ہے، یہ ہے آپ کی وکالت، کیوں معاملہ لٹکا رہے ہیں، کیسے بڑے وکیل ہیں آپ۔

(جاری ہے)

اگر آپ وقت پر کام مکمل نہیں کرسکتے تو کیس لیا ہی نا کریں، آپ مقررہ مدت تک اپنی بحث مکمل کریں۔

خواجہ حارث نے جواب میں کہا کہ میں کوئی بڑا وکیل نہیں، کیا کسی نے یہ شکایت کی کہ ہم معاملہ کو لمبا کر رہے ہیں، اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو مقدمہ چھوڑ دیتا ہوں، میرے خیال سے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں معاملہ کھینچ رہا ہوں۔ میرا انرجی لیول آپ جیسا نہیں ہے، عدالت کہتی ہے تو میں بحث چھوڑ دیتا ہوں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کا رویہ ہی ایسا ہے، ہر بات پر آپ ناراض ہو کر بائیکاٹ کر دیتے ہیں، آپ کو ہفتہ اتوار کو دلائل دینے پر بھی اعتراض تھا۔

آپ کو پتا ہے میں کیسے کام کرتا ہوں، اب آپ کیس چھوڑنے کی بات کررہے ہیں ، اپنی عدلیہ کو تباہ نہیں ہونے دوں گا، ہمیں بتا دیں کب تک بحث ختم ہوگی۔ خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ میں نہیں کر سکوں گا، چیف جسٹس نے کہا کہ اب آپ کیس چھوڑنے کی بات کررہے ہیں یہ بھی تاخیری حربہ ہے۔نوازشریف کے وکیل نے چیف جسٹس سے کہا کہ میرے لیے ممکن نہیں اور نہ میرے پاس آپ جیسی توانائی ہے، اس پر جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ خواجہ صاحب آپ بتائیں کب تک بحث مکمل کر لیں گی ہمیں تاریخ دیں آپ کس دن اور کتنے بج کر کتنے منٹ تک بحث مکمل کریں گی خواجہ حارث نے کہا کہ میں 17 دسمبر تک بحث مکمل کرلوں گا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ خواجہ صاحب ہم نے آپ کی بات مان لی ہے، اب آپ بھی اس مقدمے کو جلد نمٹانے کی کوشش کریں، 17 دسمبر تک دلائل مکمل کرلیں، احتساب عدالت کو فیصلہ لکھنے کے لئے 4 دن دے رہے ہیں۔

احتساب عدالت 24 دسمبر تک فیصلہ سنائے۔واضح رہے کہ نیب نے سپریم کورٹ کے پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ سے متعلق 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے ۔