سندھ میں پراسرار طور پر گم کئے گئے لوگوں کے ورثاء کا گلشن حدید نیشنل ہائی وے سے کراچی پریس کلب کی طرف مارچ

پورٹ قاسم کے قریب رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے روک دیا ، مارچ میں شریک عورتوں اور گم شدہ افراد کے ورثاء نے نیشنل ہائی وے پر دھرنا دیکر روڈ بلاک کردیا سپریم کورٹ نے ہمارے گم شدہ پیاروں کی بازیابی کے احکامات جاری کیے ہیں جن پر عمل نہیں کیا جارہا ، متاثرین

اتوار دسمبر 21:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 دسمبر2018ء) سندھ میں پراسرار طور پر گم کئے گئے لوگوں کے ورثاء کا گلشن حدید نیشنل ہائی وے سے کراچی پریس کلب کی طرف مارچ ، پورٹ قاسم کے قریب رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے روک دیا ، مارچ میں شریک عورتوں اور گم شدہ افراد کے ورثاء نے نیشنل ہائی وے پر دھرنا دیکر روڈ بلاک کردیا ،صحافیوں کو کوریج ، تصاویر اور وڈیوز بنانے سے بھی روک دیا گیا ، رینجرز افسران اور سول سوسائیٹی کے رہنماؤں کی مداخلت پر ورثاء پانچ گھنٹے دہرنا دینے کے بعد پورٹ قاسم موڑ سے ہی واپس چلے گئے ۔

ہمارے خاندان کے لوگوں کو گم کردیا گیا ہے ، بے بس اور پرامن لوگ انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے مارچ کرکے کراچی پریس کلب پہنچ کر اپنا احتجاج نوٹ کروانا چاہتے ہیں ، سورٹھ لوہار ، سسئی لوہار ، نیلم ناریجو و دیگر کی صحافیوں سے گفتگو۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق؛ 10دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر سندھ میں پراسرار طور پر گم کئے گئے لوگوں کے ورثاء نے سورٹھ لوہار ، سسئی لوہار ، نیلم ناریجو و دیگر کی قیادت میں اتوار کے روز صبح سویرے گلشن حدید نیشنل ہائی وے سے کراچی پریس کلب کی طرف مارچ شروع کیا جس میں 100سے زائد خواتین اور بچے شامل تھے ، مارث کے شرکاء جب پپری اسٹیل ٹاؤن ، اسٹیل مل موڑ ، نشتر آباد سے پیدل چلتے ہوئے پورٹ قاسم موڑ کے قریب رزاق آباد پہنچے تو رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے انہیںروک دیا ،رینجرز حکام نے مارچ کے شرکاء کو آگے جانے سے روکتے ہوئے احتجاج ختم کرکے واپس جانے کا الٹی میٹم دیا لیکن مارچ کی قیادت نے رینجرز اور پولیس کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھا اور مارچ میں شریک عورتوں اور گم شدہ افراد کے ورثاء نے نیشنل ہائی وے پر دہرنا دیکر ر بیٹھ گئے جس کے باعث روڈ بلاک ہوگیا،احتجاج کے شرکاء مسلسل پانچ گھنٹے بیٹھے رہے اسی دوران انسانی حقوق کی تنظیم کے رہنما اسد بٹ پہنچ گئے جنہوں نے شرکاء اور رینجرز افسران سے مذاکرات کیے جس کے نتیجے میں حالات کی کشیدگی کو نظر میں رکھتے ہوئے مارچ کے شرکاء نے پورٹ قاسم موڑ پر دہرنا ختم کرتے ہوئے واپسی کا اعلان کیا اس موقع پر رینجرز اور پولیس نے صحافیوں کو کسی بھی قسم کی کوریج ، تصاویر اور وڈیوز بنانے سے روک دیا ۔

مارچ کی قیادت کرنے والی سورٹھ لوہار، سسئی لوہار، نیلم ناریجو و دیگر نے صحافیوں کو بتایا کہ ہمارے خاندان کے لوگوں کو گم کردیا گیا ہے ، بے بس اور پرامن لوگ انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے مارچ کرکے کراچی پریس کلب پہنچ کر اپنا احتجاج نوٹ کروانا چاہتے ہیں لیکن ہمیں پریس کلب کراچی کی طرف پیش قدمی سے روک دیا گیا ہے جو انسانی حقوق کی خلاف و رزی ہے ، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہمارے گم شدہ پیاروں کی بازیابی کے احکامات جاری کیے ہیں جن پر عمل نہیں کیا جارہا ، ہمارے گھروں میں بھوک ، بدحالی اور صف ماتم بچھی ہوئی ہے ، انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنا پرا من احتجاج جاری رکھیں گے اور آج بھی پورٹ قاسم سے ہی پیدل مارچ شروع کریں گے۔