گورنر ہائوس کی دیواریں مسمار کرنے کے حکم امتناعی میں 15 جنوری تک توسیع

،وفاقی اور حکومت پنجاب کو جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیواریں گرائی جا رہی ہیں اور ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا گورنر ہائوس کی عمارت کس ادارے کی نگرانی میں آتا ہے‘عدالت کا اظہار برہمی تاریخی عمارتیں قومی تاریخی ورثہ کمیٹی کی زیر نگرانی ہیں، ایل ڈی اے اس کمیٹی کا ممبر ہے، ڈیزائن میں تبدیلی اس کا اختیار نہیں‘ وکیل ایل ڈی اے

جمعرات دسمبر 19:02

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) لاہورہائیکورٹ نے گورنر ہائوس کی دیواریں مسمار کرنے کے حکم امتناعی میں 15 جنوری تک توسیع کر دی جبکہ وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب کو جواب داخل کرنے کا آخری موقع دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ میں گورنر ہاس کی دیواریں مسمار کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران وفاقی حکومت و پنجاب حکومت کے وکلا نے جواب داخل کرنے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ نقشہ منظور کرائے بغیر دیوار کو کیسے گرانا شروع کیا جس پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کی ہدایت پر دیوار کی مسماری شروع کی۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہاں گورنر ہایوس کی دیواریں گرائی جا رہی ہیں ایل ڈی اے کیا کر رہا ہے، گورنرہائوس کی عمارت کس ادارے کی نگرانی میں ہے۔

(جاری ہے)

ایل ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ تاریخی عمارتیں قومی تاریخی ورثہ کمیٹی کی زیر نگرانی ہیں، ایل ڈی اے اس کمیٹی کا ممبر ہے، ڈیزائن میں تبدیلی اس کا اختیار نہیں۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کیا کہ ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ گورنر ہائوس کی عمارت کس ادارے کی نگرانی میں آتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ اب کیس کی سماعت اگلے برس ہو گی۔عدالت نے حکم امتناعی میں 15 جنوری تک توسیع کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب کو جواب داخل کرنے کا آخری موقع دے دیا۔