اے جی این قاضی فارمولے کے تحت صوبے کو سالانہ بجلی کی خالص آمدن کا حصہ 128 ارب ملنا چاہیے ،سردار حسین بابک

جمعرات دسمبر 21:27

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اے جی این قاضی فارمولے کے تحت صوبے کو سالانہ بجلی کی خالص آمدن کا حصہ 128 ارب ملنا چاہیے لیکن وفاق ایک بار پھر صوبے کو آئینی حقوق دینے میں لم لیٹ سے کام لے رہی ہے،باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اے این پی صوبے کے حقوق کا ڈٹ کر جنگ لڑے گی،ہمارے صوبے میں سستی بجلی پیدا ہونے کے باوجود نہ صرف ہمیں مہنگی بجلی فروخت کی جارہی ہے بلکہ قاضی فارمولے کے تحت ہمارا حصہ بھی ہمیں نہیں دیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ صوبائی حکومت خالص منافع کے حصے اور صوبے کے دوسرے حقوق کیلئے مرکزی حکومت کے سامنے ڈٹ جائے عوامی نیشنل پارٹی ہر فورم پر صوبائی حکومت کا ساتھ دیگی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے میں پانی سے سستی بجلی پیدا ہونے کے باوجود نہ صرف ہمارے آئینی حقوق سے روگردانی کی جارہی ہے بلکہ صوبے میں بجلی کی ترسیل اور ٹرانسمیشن لائنز کی مرمت تک نہیں کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2016-17 کے حساب کے مطابق ہمارا حصہ 128ارب روپیہ سالانہ بنتا ہے،جبکہ مالی سال 2022-23 تک صوبے کے خالص منافع کا حصہ 230ارب تک پہنچ جائیگا جس کے حصول کیلئے ہر فورم پر جنگ لڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر حصوں میں پانی کے علاوہ دیگر ذرائع سے مہنگی بجلی پیداوار کا خمیازہ بھی اس وقت ہمارا صوبہ بھگت رہا ہے جس کیلئے ہم کسی صورت بھی تیار نہیں اور ہمارے صوبے کے غریب عوام مہنگی بجلی خریدنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔