اٹک،سی پی ڈی آئی کے زیر اہتمام اور سی آر جی تعاون سے ضلعی بجٹ کے حوالے سے سیمینار کاانعقاد

جمعرات دسمبر 22:07

اٹک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 13 دسمبر2018ء) سی پی ڈی آئی کے زیر اہتمام اور سی آر جی تعاون سے جناح ہال ضلع کونسل اٹک میں ضلعی بجٹ کے حوالے سے سیمینار کاانعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے چیف آفیسر ضلع کونسل اٹک عبدالعزیز آصف اور اکائونٹ آفیسر شکیل اعوان نے کہا کہ بجٹ نظام حکومت کو چلانے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے،ضلع اٹک کے ترقیاتی بجٹ کے لئے اپنا بھرپور کردار اور تجاویز پیش کریں گے سی پی ڈی آئی کا یہ اقدام قابل تحسین ہے ایسی مشاورتی میٹنگ سے عوام کو آگاہی حاصل ہوتی ہے اور بجٹ بنانے کے عمل میں بھی مفید معلومات حاصل ہوتی ہیں بجٹ عوامی امنگوں کے مطابق ہی تیار کیا جاتا ہے ترقیاتی کاموں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے انشااللہ ضلع اٹک دوسرے اضلاع کی نسبت بہتر ترقی کاے گا سی پی ڈی آئی کی جانب سے ضلعی سطح پر بجٹ سازی کے عمل پر مشتمل سروے رپورٹ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کوارڈینیٹر بجٹ سٹڈی سنٹر دلنواز احمد نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق عوامی شمولیت،شفافیت،رائج طریقہ کار کے اعتبار سے پنجاب میں بجٹ سازی کے عمل سے متعلق مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے رپورٹ گزشتہ سال کی نسبت بہتری کی نشاندہی کرتی ہے تاہم عوامی شمولیت اور بجٹ سازی کا عمل مایوس کن رہا بجٹ کال لیٹرزدیر سے جاری کیے گئے اہم سٹیک ہولڈر کیساتھ مشاروت نہیں کی گئی،صوبہ بھر میں صرف پانچ اضلاع کی ویب سائٹس فعال ہیں جبکہ ضلعی سطح پر بجٹ برانچز میں116آسامیاں خالی ہیں سی پی ڈی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ رولز 2017 پر مکمل عملدرآمد کیا جائے شفافیت کوفروغ دینے کیلئے بجٹ سازی میں شہریوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کا پہلا ڈرافٹ اپریل میں پیش کیا جانا چاہیے تاکہ شہریوں کی تجاویز کو بروقت شامل کیا جاسکے سروے کے مندرجات پیش کرتے ہوئے چیئر مین سی آر جی راجہ نو بہار خان نے کہا کہ مقامی حکومتیں مختلف سٹیک ہولڈرز کو بجٹ سازی کے عمل میں شامل کرنے میں ناکام رہیں اور محض پانچ اضلاع کی جانب سے پری بجٹ سٹیٹمنٹ جاری کی گئیں بجٹ رولز کے مطابق اس دستاویز کا جاری کیا جانا ضروری ہے تاکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادکی رائے شامل کی جاسکے 31فیصد اضلاع میں مختلف طبقہ فکر کے لوگوں کے ساتھ قبل از بجٹ مشاروت (پری بجٹ کنسلٹیشن)نہیں گئی جن اضلاع میں یہ مشاورت ہوئی وہاں بھی بجٹ رولز میں دی گئی اسٹیک ہولڈرز کی فہرست کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہریوں اور مختلف طبقات کو نظر انداز کرکے محض ضلعی افسران اور منتخب نمائندگان کو اس میں شامل کیا گیا بجٹ رولز کے مطابق بجٹ کال لیٹر ستمبر میں جاری ہوجانا چاہیے جو بجٹ سازی کا سب سے پہلا عمل ہے لیکن سروے کے نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے صرف 6اضلاع نی15نومبر2017تک یہ لیٹر جاری کیا جبکہ 10 اضلاع کی جانب سی31مارچ2018تک یہ لیٹر جاری ہی نہیں کیا گیا صرف 14اضلاع ایسے تھے جنھوں نے 30جون2018سے قبل بجٹ کو منظور کرلیا تھا سینئر پروگرام منیجر سی پی ڈی آئی راجہ شعیب اکبر نے کہا ہے کہ شفافیت کو فروغ دینے کے سلسلہ میں تمام اضلاع کی کارکردگی بہتر نہیں رہی اضلاع نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاکر شہریوں کی بجٹ تک رسائی کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے صرف 5اضلاع کی ویب سائٹس فعال ہیں جن میں صرف 2 اضلاع ایسے ہیں جن کا پچھلے ایک سال کا بجٹ انکی ویب سائیٹ پر موجود ہے سروے کے مطابق کسی ایک ضلع نے بھی سیٹیزن بجٹ جاری نہیں کیا جس کا مقصد بجٹ کی اہم تفصیلات شہریوں تک عام فہم انداز میں پہنچانا ہوتا ہے انہوں نے مزید بتایا کہ ضلعی سطح پر موجود بجٹ برانچز انسانی وسائل کی کمی کا شکار ہیں اور سروے کے مطابق ان برانچز کی561منظورشدہ آسامیوں میں سے صرف445 پراہلکار تعینات ہیں جبکہ116آسامیاں خالی ہیں اسی طرح 2 اضلاع ایسے بھی ہیں جہاں ڈسٹرکٹ آفیسر فنانس کی سیٹیں بھی خالی ہیں یہ صورتحال بھی بجٹ سازی کے عمل میں تعطل اور تاخیر کی وجوہات کو جزوی طور پرواضح کرتی ہے۔

(جاری ہے)

قبل ازیں کوارڈینیٹر بجٹ سٹڈی سنٹر دلنواز احمد نے تمام معززین کو خوش آمدید کہتے ہوئے بتایا کہ بجٹ کسی بھی حکومت کی اہم ترین دستاویز ہوتی ہے موجودہ ترقی یافتہ دور میں حکومتی پالیسیاں عوامی شرکت سے ترتیب دی جاتی ہیں اس لیے ضروری ہے کہ مقامی ترقیاتی ایجنڈے کو بہتر بنانے کیلئے اس بجٹ پر شہریوں،سماجی تنظیموں اور میڈیا کے لوگوں کیساتھ بحث و مباحثہ کیا جائے چیئر مین سی آر جی راجہ نو بہار خان نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔