آج زینب قبر میں خود کو بہت محفوظ سمجھ رہی ہو گی

درد میں تڑپتی ننھی زینب مدد کے لیے چلانا چاہتی ہو گی مگر پھر خاموش ہو گئی ہو گی کیونکہ کوئی اس کی آواز سننے والا نہیں تھا۔قصور میں قتل ہونے والی ننھی زینب کی پہلی برسی پر سوشل میڈیا صارفین ننھی بچی کے درد کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات جنوری 16:55

آج زینب قبر میں خود کو بہت محفوظ سمجھ رہی ہو گی
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔10 جنوری 2018ء) قصور میں قتل ہونے والی ننھی زینب کی آج پہلی برس ہے۔ گذشتہ برس میں پنجاب کے ضلع قصور سے اغوا ہونے والی 7 سالہ بچی زینب کو زیادتی کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔زینب کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو نے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور ننھی زینب کی معصوم شکل نے پورے ملک کو جنجھوڑ کر رکھ دیا۔

قصور میں پر تشدد مظاہرے بھی کئے گئے۔بعدازاں چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے واقعے کا از خود نوٹس لیا۔اور پولیس کو جلد از جلد قاتل کی گرفتار کرنے کا حکم دیا۔21جنوری کو پولیس نے زینب سمیت 8 بچیوں سے زیادتی اور قتل میں ملوث عمران علی کو گرفتار کر لیا۔12فروری کو کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے فرد جرم عائد کی اور آج مجرم عمران علی کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

(جاری ہے)

اسے ملکی تاریخ کا تیز ترین ٹرائل قرار دیا گیا۔۔آج ننھی زینب کو اس دنیا سے گئے ہوئے ایک سال مکمل ہو گیا ہے جب کہ زینب کا قاتل بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا تاہم آج بھی پاکستان میں قصور سمیت کئی شہروں میں بچے غیر محفوظ ہیں۔زینب کی پہلی برس کے موقع پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی تبصرے کیے ہیں۔صارفین نے #RememberingZainab کے نام سے اب تک کئی ٹویٹس کیے ہیں۔

ایک صارف نے کہا کہ آج زینب کی پہلی برسی ہے لیکن وہ ابھی سوال کررہی ہے
ایک صارف نے کہا کہ ننھی زینب کے خوفناک قتل نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں اور قتل کرنے والے ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئیے اور ایسے کیسز کا تیز ترین عدالتوں میں دہشت گردی کی شق کے تحت ٹرائل کرنا چاہئیے
ایک صارف نے کہا کہ ہمیں اس معاشرے کی ہر زینب کے لیے آواز اٹھانی چاہئیے
ایک صارف نے حکومت کو زینب الرٹ ایکٹ یاد کروایا جو تاحال حکومت کی طرف سے پاس نہیں کروایا گیا
ایک صارف نے کہا قتل ہونے والی 7 سالہ زینب ہمیں ایک سال بعد بھی یاد ہے
ایک صارف نے ٹویٹ کیا ہے کہ
ایک صارف نے کہا کہ آخری وقت میں زینب نے صرف درد اور مایوسی دیکھی۔

وہ مدد کے لیے چلانا چاہتی تھی لیکن وہ جان گئی کہ کوئی بھی اس کی سننے والا نہیں ہے۔اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ کتنا چلائی کیونکہ اس وقت ضمیر مفلوج تھے
ایک صارف نے کہا کہ یقینا آج زینب قبر میں سکون کے ساتھ رہ رہی ہو گی
اس کے علاوہ بھی کئی سوشل میڈیا صارفین نے زینب کی پہلی برسی پر اسے یاد کیا اور ساتھ افسوس کا اظہار کیا کیونکہ آج بھی اس ملک میں زینب قتل جیسے کئی واقعات پیش آتے ہیں۔اور ننھی بچیوں کے ساتھ زیادتی کر کے انہیں قتل کر دیا جاتا ہے۔صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس گھناؤنے جرم کی سخت سے سخت سزا ہونی چاہئیے۔