پی ٹی آئی حکومت طلبہ یونین کی بحالی کا وعدہ پورا کرے ،ْسراج الحق

ملک میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ ناکام ہوچکی ،ْاب پی ٹی آئی بھی ناکامی سے دوچار ہے ،ْاسلامی جمعیت طلبہ کے سالانہ اجتماع ارکا ن سے خطاب

ہفتہ فروری 21:30

پی ٹی آئی حکومت طلبہ یونین کی بحالی کا وعدہ پورا کرے ،ْسراج الحق
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 فروری2019ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت طلبہ یونین کی بحالی کے اپنے وعدے کو پورا کرے،ملک میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ ناکام ہوچکی ہیں اور اب پی ٹی آئی بھی ناکامی سے دوچار ہورہی ہے ۔ حکومت کی معاشی وتعلیمی پالیسی ناکام ثابت ہوئی ہے ۔حکومت اپنے دعوے اور وعدے پورے نہیں کرسکی ہے ، عوام موجودہ حکومت سے بھی مایوس ہورہے ہیں ۔

فرسودہ نظام اور اسٹیٹس کو کی حفاظت کرنا عوام کی توہین ہے ،حج پر سبسیڈی ختم کردی گئی ہے ۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نے پہلے تو حکومت کے فیصلے سے بغاوت کی لیکن اب بڑی مہارت سے وکالت کررہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سائٹ میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے 66ویںسہ روزہ مرکز ی سالانہ اجتماع ارکان کے دوسرے روز ہفتہ کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ محمد حسین محنتی ، سابق امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی ، کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن ،سکریٹری کراچی عبد الوہاب ، مرکزی سکریٹری اطلاعات قیصر شریف ،سکریٹری اطلاعات کراچی زاہد عسکری ،رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید ، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ محمد عامر ، ناظم کراچی حمزہ صدیقی اور دیگر بھی موجود تھے۔

سالانہ اجتماع میں ملک بھر سے جمعیت کے ارکان نے شرکت کی ،اجتماع ارکان اتوار کے روز اختتام پذیر ہوگا۔اس موقع پر اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ نے سینیٹر سراج الحق اور دیگر مہمانوں کو یادگاری شیلڈز۔سینیٹر سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت کے نوجوانوں کو دیکھ کر اور ان سے مل کر ہمیں بھی جوش و جذبہ اور حوصلہ ملتا ہے ، جمعیت کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات بہت بڑا سرمایہ ہیں ،دعوت دین کاکام بہت اعلیٰ مقام اور مرتبہ رکھتا ہے ۔

انبیاء ؑ نے یہ کام کیا ہے اور جمعیت کے نوجوان بھی یہی کام کررہے ہیں۔ہمارا اور آ پ کا مقصد صرف رضائے الہی کا حصول ہے ۔جمعیت کے نوجوانوں نے شعوری طورپر دعوت دین کی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نوجوانی کے دور میں اس راستے پر چلنا سعادت ہے اور یہ صرف اور صرف اللہ تعالی کی عنایت اور مہربانی ہے کہ اس نے اس راستے پر گامزن کیاہے ۔

اسلامی جمعیت طلبہ کا قیام 1947میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی دوررس نظر اور ہدایت کی روشنی میں عمل میں آیا۔اس تنظیم کا نصب العین تعمیر سیرت اور تطہیر افکار کی جدوجہد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے ، انسان کی سیرت اور معاشرے کی تعمیر بہت بڑاکام ہے جو جمعیت بہترین طریقے سے انجام دے رہی ہے ۔جمعیت کے نوجوان وہ چمکتے چاند اور ستارے ہیں جو وطن عزیز کے ہرگوشے، علاقے اورتعلیمی اداروں کے اندر دین کی روشنی پھیلارہے ہیں ، معاشرے کے نوجوانوں اور پوری طلبہ برادری کو دعوت دین کی جدوجہد میں شامل کررہے ہیں ، اُن کی رہنمائی کررہے ہیں اوراُنہیںکو ایک عظیم جدوجہد کے لیے منظم کررہے ہیں ۔

جمعیت کی جدوجہد بدروحنین ، طائف کی گلیوں اور مکہ و مدینہ میں دعوت و دین کی جدوجہد کا ہی تسلسل ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہماری پشت پر کوئی عالمی سرمایہ دار، اسٹیبلشمنٹ نہیں ہے بلکہ ہمارا اصل سہارا اور مددگار اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے ، ہمارا مقابلہ کسی پارٹی یا حکومت سے نہیں بلکہ اس نظام اور اسٹیٹس کو سے ہے جس نے ملک کے عوام کو غلام بنایا ہوا ہے اور ظلم واستحصال کے نظام میں جکڑا ہوا ہے اسی نظام کے خلاف ہماری جدوجہد ہے جو اصل میں جہاد ہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ جمعیت کے نوجوانوں کو اس ظالم اور فاسد نظام کو چیلنج کرنا ہے ۔ملک میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ ناکام ہوچکی ہے اور اب پی ٹی آئی بھی ناکامی سے دوچار ہورہی ہے ۔ اس حکومت کی معاشی وتعلیمی پالیسی ناکام ثابت ہوئی ہے ۔حکومت اپنے دعوے اور وعدے پورے نہیں کرسکی ہے ، عوام موجودہ حکومت سے بھی مایوس ہورہے ہیں ۔فرسودہ نظام اور اسٹیٹس کو کی حفاظت کرنا عوام کی توہین ہے ۔

انہو ں نے کہاکہ یہ حکومت مدینہ کی ریاست بنانے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن لوگوں کے لیے حج پر جانا بھی مشکل بنارہی ہے ، حج پر سبسیڈی ختم کردی گئی ہے ۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نے پہلے تو حکومت کے اس فیصلے سے بغاوت کی لیکن اب بڑی مہارت سے وکالت کررہے ہیں۔موجودہ حکومت نے تعلیم کو عام کرنے کے بڑے نعرے لگائے تھے لیکن ابھی تک کچھ نہیں کیا اس اس حکومت سے کوئی بہتری کی توقع نہیں ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں ملک کو آگے لے کر جانا ہے ، بچوں کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب دینا چاہتے ہیں ، غریبوں کی جھونپڑی میں بھی روشنی اورکسان کے بچے کو بھی تعلیم دینا چاہتے ہیں ، ہم ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں جس میں سودی نظام اور سفارش کا کلچر نہیں ہوگا صرف میرٹ کی بنیاد پر ترقی دی جائے گی ۔انہوں نے کہاکہ طلبہ یونین پر پابندی سے طلبہ برادری اور تعلیمی اداروں کو ہی نہیں پوری قوم کو نقصان ہوا ہے ، طلبہ یونین پر پابندی کا خاتمہ ہونا چاہیئے ، موجودہ حکومت نے طلبہ یونین بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا آج اس وعدے کو پورا کرنے کا وقت آگیاہے ۔

انہوںنے کہاکہ روٹی کپڑا او رمکان انسانی ضرورت ہے اورقرآن کا نظام ہی اس کی ضمانت ہے کیوں کہ اسلامی نظام کا نفاذ ہی عوامی مسائل حل کرسکتا ہے اور انسانوں کی ضروریات پوری کرسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ ملک کلمہ کی بنیاد پر قائم ہوا اور برصغیر کے مسلمانوں نے لازوال قربانیاں دیں ۔ اس ملک میں اسلامی نظام ضرور نافذ ہوگا، اسلامی انقلاب آئے گا ، ہمارا کام جدوجہد کرنا ہے ، ہم ان شاء اللہ اس ملک کو ایک اسلامی اور خوشحال پاکستان ضرور بنائیں گے ۔