علیم خان کی گرفتاری سے پی ٹی آئی میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے

پی ٹی آئی کے 25 سے 30 ایم پی ایز میرے ساتھ رابطے میں ہیں۔ رانا ثناءاللہ کا دعویٰ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ فروری 15:44

علیم خان کی گرفتاری سے پی ٹی آئی میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 فروری2019ء) پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما رانا ثناءاللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ علیم خان کی گرفتاری وزیراعظم عمران خان کا فیصلہ تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے متعدد وزراء کے فون ٹیپ کیے جاتے ہیں جب کہ گرفتاری سے پہلے علیم خان اور وزیر اعلیٰ کے فون ٹیپ ہو رہے تھے۔اور دونوں کو علم تھا کہ ان کے فون ٹیپ کیے جا رہے۔

رانا ثناءاللہ کا مزید کہنا تھا کہ اب اگلی باری پرویز الہیٰ کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پرویز الہیٰ گرفتار ہو گئے تو اگلے ماہ تک پنجاب حکومت نہیں رہے گی۔رانا ثناءاللہ نے یہ بھی کہا کہ ویسے تو پہلا نمبر پرویز الہیٰ کا تھالیکن انہوں نئے ناراضی ظاہر کی جس کے بعد علیم خان کو گرفتار کیا گیا۔رانا ثناءاللہ نے کہا کہ علیم خان سمیت 3 اور لوگوں کے بھی فون ٹیپ ہوتے تھے اور ایک سول انٹیلیجنس ایجنسی وزیراعظم عمران خان کو تمام رپورٹ دیتی تھی۔

(جاری ہے)

اور اگر اپوزیشن کے پچاس لوگ پکڑے جا رہے ہیں تو پھر حکومت میں سے بھی 5 تو پکڑنے پڑیں گے۔راناثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ علیم خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے جب کہ ان کے 25 سے 30 ایم پی ایز میرے ساتھ رابطے میں ہیں اور میں نے انہیں کہا ہے کہ حمزہ شہباز کی ملک واپسی پر ان سے معاملات طے ہوں گے۔راناثناء اللہ کا کہنا تھا کہ علیم خان کے لوگوں پر احسانات ہیں انہوں نے نہ صرف ٹکٹ لے کر دئیے بلکہ پیسہ بھی خرچ کیا س لیے وہ علیم خان کی گرفتاری پر ناراض ہیں۔

واضح رہے سابق سینئر صوبائی وزیر اور پی ٹی آئی رہنماءعلیم خان کو نیب نے دو روز قبل پیشی کے دوران گرفتار کرلیا تھا۔ جس کے بعد علیم خان نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا جسے منظور بھی کر لیا گیا ہے۔ نیب لاہور کی جانب سے جاری گرفتاری کی وجوہات کے مطابقعبدالعلیم خان کی جانب سے مبینہ طور پر پارک ویو کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی کے بطور سیکرٹری اور ممبر صوبائی اسمبلی کے طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جس کی بدولت پاکستان و بیرون ممالک میں مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنائے ۔