مجیب الرحمن شامی کا ثاقب نثارکیخلاف آرٹیکل6 کےتحت کاروائی کا مطالبہ

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں عدالتی نظام کو بری طرح سبوتاژ کیا گیا، ثاقب نثار کے بعد عدالتوں کا موڈ بدلا ہوا لگ رہا ہے، اب عدالتیں نیب کی کاروائیوں پر قانون کے مطابق ریلیف دیں گی۔سینئر صحافی، تجزیہ کارمجیب الرحمن شامی کا تبصرہ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ فروری 15:52

مجیب الرحمن شامی کا ثاقب نثارکیخلاف آرٹیکل6 کےتحت کاروائی کا مطالبہ
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 فروری2019ء) سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ثاقب نثار نے عدالتی نظام کو سبوتاژ کیا ہے، ان کیخلاف آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ علیم خا ن کی گرفتاری کے بعد عدالتوں میں نیب کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عدالتوں کا موڈ اب بدلا ہوانظر آتا ہے۔ چاہے سپریم کورٹ ہو یا لاہور ہائیکورٹ ہو۔عدالتوں میں قانون کے مطابق سختی سے معاملات چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس ثاقب نثار کا دور گزر چکا، جسٹس ثاقب نثار نے توزیرسماعت مقدمات میں بھی 184/3کی پریکٹس کرنے کا ریکارڈ بنایا ہے۔

(جاری ہے)

جسٹس ثاقب نثار نے عدالتی نظام کو بری طرح سبوتاژ کیا ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثار کیخلاف آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عدالتیں اب نیب کے ساتھ وہ رعایت کرنے کو تیار نہیں ہوں گی، مجھے امید ہے عدالتوں میں نیب کی اس طرح کی کاروائیوں میں اب ریلیف بھی ملے گا۔ واضح رہے پی ٹی آئی کے رہنماء اورسابق سینئر صوبائی وزیر علیم خان کی گرفتاری کو حکومت اور اپوزیشن کوبیلنس کرنے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔

بعض سیاسی رہنماؤں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ علیم خان کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے، علیم خان کی گرفتار ی کی آڑ میں بڑی گرفتاریاں کی جائیں گی۔ پی پی رہنماء نبیل گبول کا کہنا ہے کہ علیم خان کے بعد پرویزالٰہی ، پرویز خٹک اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ علیم خان کے بعد اب اگلی باری پرویز الٰہی کی ہے۔

پرویز الٰہی نے ناراضی ظاہر کی ورنہ پہلا نمبر پرویزالٰہی کا تھا۔ لیکن کہا گیا کہ اگر وہ گرفتار ہوگئے تو پھر پنجاب حکومت نہیں رہے گی۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ علیم خان کی گرفتار ی کافیصلہ وزیراعظم عمران خان نے خود کیا تھا۔گرفتاری سے قبل علیم خان اور پرویز الٰہی کے فون ٹیپ ہورہے تھے۔انہوں نے کہا کہ متعدد وزراء کے فون ٹیپ کیے جاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر مارچ تک اپوزیشن کے 50 سیاسی رہنماؤں کو پکڑنا ہے توپھر 5حکومت کے لوگ بھی پکڑنے ہوں گے۔