بھارت کا متعصبانہ رویہ ایک بار پھر بے نقاب

سیکولر کہلانے والے ملک نے مسلمانوں کی حمایت پر نوجوت سنگھ سدھو پر پابندی عائد کر دی

Sajjad Qadir سجاد قادر منگل اپریل 06:09

بھارت کا متعصبانہ رویہ ایک بار پھر بے نقاب
لاہور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2019ء) کہنے کو تو بھارت ایک سیکولر ملک ہے مگر وہاں مسلم دشمنی آئے روز سامنے آتی رہتی ہے۔نہ صرف مسلم بلکہ سبھی اقلیتوں کے ساتھ ہندوﺅں کا متعصبانہ رویہ دیکھنے کو ملتا رہتا ہے۔مگر کچھ عرصہ سے انتہا پسند ہندو کھل کر مسلمانوں کے خلاف کھڑے ہوگئے اور انہیں بڑے پیمانے پر قتل بھی کر رہے ہیں۔اس وقت بھارت سرکار کے پردھان منتری نریندر مودی بھی ہندوﺅں کی اس کٹر جماعت سے تعلق رکھتے ہیں جس نے مودی کی سربراہی میں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا۔

تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آج جب وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں تو بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کیاجائے گا۔یہی وجہ ہے کہ کسی کو بھی مسلمانوں کے حق میں بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور جو بھی بھارت میں مسلمانوں کے حق میں بیان دیتا ہے تو اس پر غداری کا ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

اب حالیہ الیکشن میں بھی مودی نے پاکستان دشمنی کاکارڈ کھیلا یہاں تک کہ اس نے پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے کی بھی ناکام کوشش کی اور مسلمانوں کو بھارت سے نکال باہر کرنے کے اعلان کیے ہیں تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ ووٹ پڑیں۔

جبکہ ان کے مخالف کانگریسی راہنما نوجوت سنگھ سدھو نے بھارت کے مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ مسلمان ہو تو مودی کو ووٹ کبھی نہ دینا۔سدھو کے اس بیان پر بھارتی الیکشن کمیشن نے انہیں72گھنٹوں تک الیکشن کمپین نہ چلانے کا نوٹس بھیج دیا ہے۔یہ وہی سیکولر بھارت ہے جو اپنے ملک میں آزادی اورسبھی اقلیتوں کے ساتھ برابری کے دعوے کرتا ہے مگر نوجوت سنگھ سدھو کے ایک بیان پر اس کی الیکشن کمپین ہی روک دی گئی۔یہاں سے وا ضح نظر آتا ہے کہ بھارت بظاہر سیکولر چہرہ لیے ہوئے ہے مگر اندر سے اس کا تعصب اور مسلم دشمنی عروج پر ہے۔