چین کا دوسرے دو روزہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی شمولیت پر خوشی کا اظہار

سی پیک فیصلہ کن منصوبہ ہے جس نے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے لیے ایک بہترین مثال پیش کی ہے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ کی روزمرہ بریفنگ

منگل اپریل 18:03

چین کا دوسرے دو روزہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں وزیراعظم پاکستان عمران ..
بیجنگ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 اپریل2019ء) چین نے کہا ہے کہ وہ بیجنگ میں ہونے والے دوسرے دوروزہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم برائے بین الاقوامی تعاون میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی شمولیت کو خوش آمدید کہتا ہے،چین پاکستان اقتصادی راہداری فیصلہ کن منصوبہ ہے جس نے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے لیے ایک بہترین مثال پیش کی ہے۔ان خیالات کا اظہار چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے اپنی معمول کی بریفنگ کے دوران کیا۔

انھوں نے کہا کہ ان کا ملک بیجنگ میں 25 سے 27 اپریل کے دوران ہونے والے دوسرے دوروزہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم برائے بین الاقوامی تعاون میں وزیر اعظم عمران خان کو خوش آمدید کہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری، بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کا اہم ترین منصوبہ ہے جسے دونوں ملکوں کی اجتماعی کوششوں سے ان کے عوام کو متعدد ٹھوس فوائد حاصل ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس منصوبے میں بڑی پیشرفت اور اپنے لوگوں کو بڑے پیمانے پر فوائد کی فراہمی کے سلسلے میں ہر قسم کا اعتماد حاصل ہے ۔ترجمان نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک حد درجہ فیصلہ کن منصوبہ ہے اور یہ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے تحت دوسرے منصوبوں کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔وزیر اعظم عمران خان چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے دوسرے ایڈیشن میں شریک ہوں گے۔

ان کے ہمراہ وفاقی وزراء اور دیگر اعلی سرکاری حکام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہوگا۔فورم کے پہلے دن وزیر اعظم افتتاحی اجلاس میں شرکت کریں گے اور اس دوران وہ اپنا کلیدی خطاب بھی کریں گے۔ وہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شریک ہونے والے عالمی رہنمائوں کے اعزاز میں چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے دی گئی سرکاری ضیافت میں بھی شرکت کریں گے۔

فورم کے دوسرے دن وزیراعظم عمران خان رہنمائوں کے گول میز سیشن میں شرکت کریں گے۔وہ چینی صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی کی کیانگ کے ساتھ ملاقاتیں بھی کریں گے جن کے دوران دونوں دوست ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان چین پاکستان اقتصادی راہداری فریم ورک کے تحت تعاون کے مزید فروغ کے لیے کئی معاہدوں پر دستخط کا بھی امکان ہے۔

فورم کے موقع پر وزیر اعظم کی عالمی رہنمائوں کے ساتھ ملاقاتوں کا بھی امکان ہے۔فورم کے بعد وزیراعظم ضلع یانگ چنگ میں ہونے والے بین الاقوامی ہارٹیکلچرل نمائش کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے جہاں پاکستان نے ایشین گارڈنز میں اپنی جدید ہارٹیکلچرل کامیابیوں کی نمائش اور سیاحت کے فروغ کے لیے ایک پویلین قائم کیا ہے۔فورم کے دوران متعدد تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا جن میں بیلٹ اینڈ روڈ تعاون خیال کے تحت رہنمائوں کا اعلیٰ سطحی کی گول میز اجلاس، موضوعی فورم، سی ای او کانفرنس شامل ہیں جن کا مقصد بہتر مستقبل کے لیے تعاون کو بڑھانا ہے۔

فورم میں 100 سے زیادہ ملکوں کے نمائندے شرکت کررہے ہیں جن میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، آسٹرین چانسلر سبستیان کرز، یونانی وزیر اعظم الیکسز سپراس، ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان اور اٹلی کے وزیراعظم گسپ کونٹے سمیت چالیس بیرونی رہنماء شامل ہیں۔