سینٹ نے سری لنکا میں دہشت گردی کے واقعات پر مذمتی قرارداد منظور کرلی

رضا ربانی اور مشاہداللہ خان سمیت ارکان سینیٹ کی وزیراعظم عمران خان کے ایران میں دئے گئے بیان پر شدید تنقید نیشنل ایکشن پلان پرپارلیمانی لیڈرز کو بریفنگ قبول نہیں ، بریفنگ کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے، رضا ربانی دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا،نیشنل ایکشن پلان پر دو مئی کو اجلاس بلایا جائیگا، اعظم سواتی وزیراعظم اور وزیرخارجہ ایک پیج پر نہیں، وزیر خارجہ کچھ اوروزیر اعظم کچھ کہتے ہیں ، مشاہد حسین سید

جمعرات اپریل 18:46

سینٹ نے سری لنکا میں دہشت گردی کے واقعات پر مذمتی قرارداد منظور کرلی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 اپریل2019ء) سینٹ نے سری لنکا میں دہشت گردی کے واقعات پر مذمتی قرارداد منظور کرلی جبکہ سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی اور مشاہداللہ خان سمیت ارکان سینیٹ نے وزیراعظم عمران خان کے ایران میں دئے گئے بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ نیشنل ایکشن پلان پرپارلیمانی لیڈرز کو بریفنگ قبول نہیں ، بریفنگ کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے ۔

جمعرات کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا۔سری لنکا میں دہشت گردی کے واقعات پر سینیٹ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور متفقہ طور پر قرارداد مذمت منظور کی گئی۔ وزیرپارلیمانی امور اعظم سواتی نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں،دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

(جاری ہے)

نیشنل ایکشن پلان پر دو مئی کو اجلاس بلایا جائیگا۔

رضا ربانی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر ہم وہ بریفنگ قبول نہیں کریں گے جو صرف پارلیمانی لیڈرز کو دی جائے،اگر ایسا ہوا تو دیگر پارلئمان کا استحقاق مجروع ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بریفنگ دی جائے۔ اگر حساس معاملہ ہے تو ان کیمرا بریفنگ دی جائے۔انہوں نے کہا وزیراعظم نے بیان دیا کہ ایران پر حملوں کیلئے ہماری سرزمین استعمال ہوئی۔

یہ حساس باتیں ہیں۔ دنیا میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے بات کی جا رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایسی صورت حال میں نیشنل ایکشن پلان پر بریفنگ لازمی ہے۔شبلی فراز نے کہا رضا ربانی کی وزیر اعطم کے حوالے سے کی گئی بات کی تردید کرتا ہوں۔ مسلم لیگ (ن )کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ کوئٹہ واقعہ کی مذمت ہوئی لیکن کرائسٹ چرچ کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسا کردار نظر نہیں آیا کوئٹہ واقعہ پر مذمت سے آگے بڑھ کر حکومت کو اقدامات کرنے چاہیے تھے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران سے لوگ پاکستان آ کر دہشت گردی کرتے ہیں ، وزیر اعظم کہتے ہیں کہ پاکستان سے ایران میں حملے ہوتے ہیں۔ وزیر خارجہ اور وزیر اعظم کیا ایک پیج پر ہیں اس سے تو لگتا ہے کہ ہاؤس ان آرڈر میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئٹہ میں دھرنا ہوا تو اس وقت کے وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ جو روڈ بند کریگا اس کی چھترول ہو گی اس پر معافی مانگی جائے۔

انہوںنے کہاکہ چھتر شروع سے رہا ہے ، چھتر ہمیشہ رہتا ہے ، لیکن ہاتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں آج جس کے ہاتھ میں چھتر ہے ، کل اس کی پیٹھ بھی ہو سکتی ہے اور دوسرے کا ہاتھ۔ چھتر کو ہمیشہ کیلئے الماری میں بند کریں۔ انہوںنے کہاکہ یہ قوم چھتر کی متحمل نہیں ہو سکتی اگر چھتر مارنے سے دہشت گردی ختم ہو سکتی ہے تو ہم اپنے پیٹھ حاضر کر دیتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ٓاپ میں چھتر مارنے کی کتنی طاقت ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہمارا مشترکہ عزم ہے، صرف فوجیوں نے تو قربانی نہیں دینی۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم اگرنیشنل ایکشن پلان پر سیاسی قیادت کا اجلاس نہیں کر پاتے ، تو ہم کیا پیغام دے رہے ہیں۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان ، نیکٹا ، ایپکس کمیٹی سب ناکام ہو چکی ہے، دہشت گردوں کو مین اسٹریم میں لانے کی پالیسی نہیں ہونی چاہیے ، گڈ بیڈ دہشت گردی کی پالیسی نہیں ہونی چاہیے۔