کیا نواز شریف کو سپریم کورٹ سے مستقل ضمانت مل سکتی ہے ؟

ماہر قانون احمد اویس نے سابق وزیراعظم کو مستقل ضمانت ملنے کے امکانات سے آگاہ کر دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ اپریل 11:30

کیا نواز شریف کو سپریم کورٹ سے مستقل ضمانت مل سکتی ہے ؟
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 26 اپریل 2019ء) : سابق وزیراعظم نواز شریف نے گذشتہ روز مستقل ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اس پر بات کرتے ہوئے ماہر قانون اور سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے کہا کہ نواز شریف کو پہلے جو ضمانت دی گئی وہ مشروط ضمانت تھی جس میں کہا گیا تھا کہ آپ چھ ہفتے تک اپنا علاج کروا لیں۔ ان کو یہ آزادی دی گئی تھی کہ آپ اپنے پسند کے ڈاکٹرز اور اسپتال سے اپنا علاج کروائیں لیکن جیسے ہی یہ مدت ختم ہو گی تو نواز شریف کو جیل جانا ہو گا۔

اب سابق وزیراعظم نواز شریف اس بات پر بضد ہیں کہ انہیں پاکستان سے باہر جانے کی اجازت دی جائے۔ لیکن ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوا اور نواز شریف ملک سے باہر چلے گئے تو یہ معاملہ سپریم کورٹ کے اختیارات سے باہر ہو جائے گا۔

(جاری ہے)

ماہر قانون احمد اویس نے مزید کہا کہ ماضی میں مستقل ضمانت کی مثال نہیں ملتی ، اگر ضمانت ملے بھی تو اپیل پر سماعت تک ہوتی ہے۔

اور ایسا ایسی صورت میں ہوتا ہے جب کوئی اپیل دائر کی گئی ہولیکن نواز شریف کے کیس میں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ نواز شریف کو طبی بنیادوں پر دی گئی تھی لہٰذا اس کی نوعیت یکسر مختلف ہے اور اس کی ماضی میں کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف نے بیرون ملک جانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ 15 صفحات پر مشتمل نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی گئی ۔

عدالت عظمیٰ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو 26مارچ کو 6 ہفتوں کے لیے مشروط ضمانت دی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ضمانت طبی بنیادوں پر دی گئی۔26 مارچ کے حکم نامے میں کہا گیا کہ نواز شریف چھ ہفتے کے دوران ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔نواز شریف پاکستان میں علاج کروانے کی پابندی پر نظر ثانی کی جائے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ نواز شریف کا علاج اسی ڈاکٹر سے ممکن ہے جس نے برطانیہ میں ان کاعلاج کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے لکھوائے حکم نامے میں کہا کہ نواز شریف ضمانت میں توسیع کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔تحریری حکم نامے میں ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا حصہ شامل نہیں ۔یہ ٹائپنگ کی غلطی ہو سکتی ہے۔نواز شریف کی مکمل صحتیابی چھ ہفتوں میں نا ممکن ہے۔پاکستان ، یو کے، یو ایس اے اور سوئٹرزلینڈ کے طبی ماہرین کے مطابق نواز شریف کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

نواز شریف کو دل اور گردے کے امراض لاحق ہیں۔نواز شریف ہائی بلڈ پریشر ،شوگر اور گردوں کے تیسرے درجے کی بیماری میں مبتلا ہیں۔درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ نواز شریف ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔صرف پاکستان کے اندر نواز شریف کو علاج کے لیے پابند کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 26 مارچ کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو طبی بنیادوں پر چھ ہفتے کے لیے ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔