جب تک احتساب نہیں ہو گا چوری نہیں رکے گی اور ملک ترقی نہیں کرے گا

ادارے آزاد ہیں،حکومت اداروں میں مداخلت نہیں کرتی،عمران خان

Sajjad Qadir سجاد قادر ہفتہ جولائی 07:01

جب تک احتساب نہیں ہو گا چوری نہیں رکے گی اور ملک ترقی نہیں کرے گا
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جولائی2019ء)   بڑے بڑے مگر مچھوں کو وزیراعظم عمران خان نے پہلے پکڑا اب باری آہستہ آہستہ نیچے کی طرف آ رہی ہے۔عمران خان کا کہنا ہے کہ میں نے قسم کھائی تھی کرپشن کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا آج میں وہی کر رہاہوں۔مگر میں نے انتقامی کارروائی نہیںکی بلکہ اداروںکو آزادی دی اور انہیں ہدایت بھی دی کہ میرٹ پر کرپشن اور منی لانڈرنگ پر کام کیاجائے۔

اب اداروں کوکام کرنے کے لیے آزادی ملی ہے تو وہ آزادانہ طور پر کام بھی کر رہے ہیں۔میں نے کسی بھی کرپٹ سیاستدان کے خلاف کوئی کیس درج نہیں کیا۔ بلکہ یہ کیس پہلی حکومتوں کے دور میں ہی درج ہوئے ہیں بس ان پر کارروائی اب ہو رہی ہے۔عمران خان کا کہنا تھا بڑا شور مچا ہے کہ فلاں پکڑا گیا اور فلاں پکڑا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

انیل مسرت سے پوچھیں پہلے کیوں پاکستان نہیں آتے تھے، سب کہیں گے کہ ہم کرپشن کی وجہ سے پہلے پاکستان نہیں آتے تھے، اورسیز پاکستانی سب سے زیادہ پاکستان کا درد رکھتے ہیں۔

ان سے پوچھیں کیوں پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرتے تھے جواب ملتا ہے کہ کرپشن تھی۔ انہوں نے مزید کہاکہ ملک کے اندر ایسا کیا کام کیا گیا کہ 10 سال میں 24 ہزار ارب روپے قرض چڑھا، یہ پیسہ جن کی جیبوں میں گیا جب تک ان کا احتساب نہیں ہوگا ملک آگے نہیں بڑھے گا۔ یہ بڑی دھمکیاں دیتے ہیں، میں 22 سال سے اس ایک موقع پر انتظار کررہا تھا، اللہ سے وعدہ کیا تھا ایک موقع ملے، ملک کا پیسے کھانے والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔

ان حالات کے ذمہ دار لوگوں کا جب تک احتساب نہیں ہوگا یہ چوری نہیں رکے گی۔عمران خان نے کہاکہ آج تک صرف چھوٹے پٹواری کو پکڑ کر احتساب کیا جاتا تھا، احتساب چھوٹے چوروں کو پکڑنے سے نہیں طاقتوروں کو پکڑنے سے ہوتا ہے۔یہ جن کیسز میں پکڑے جارہے ہیں یہ ہم نے نہیں بنائے، ہم نے اداروں کو آزاد چھوڑدیا ہے وہ جس کو چاہیں کرپشن میں پکڑیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے مجھے بیرون ملک سے بھی سفارشیں بھجوائی ہیں، یہ جو مرضی کرلیں، احتساب ہوکر رہے گا، احتساب کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

آج طاقتور کو قانون کے دائرے میں لارہے ہیں، یہ کہتے ہیں انتقامی کارروائی ہے، انتقامی کارروائی تو میرے خلاف ہوئی تھی۔ میں نے جب پانامہ کی بات کی تو 2 کیسز اور 32 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ میں نے ان کیسز کا عدالت میں سامنا کیا، عدالت میں دستاویزات دیں، انہوں نے عدالت میں ایک بھی مصدقہ کاغذ پیش نہیں کیا اور شور مچارہے ہیں کہ انتقامی سیاست ہورہی ہے۔یہ شور بھی مچا لیں اور سفارشیں بھی کروا لیں جو کرنا ہے کریں مگر یاد رکھیں انہیں پیسے بھی واپس کرنے پڑیں گے او ر این آر او بھی نہیں ملے گا۔