سابق رجسٹرار سرگودھا یونیورسٹی کرپشن ثابت ہونے پر نوکری سے برطرف

ہفتہ اگست 21:33

سرگودھا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 10 اگست2019ء) یونیورسٹی آف سرگودھاسنڈیکیٹ نیسابقہ رجسٹرار مدثر کامران کو کرپشن،اختیارات کے ناجائز استعمال اور مس کنڈکٹ ثابت ہونے پر نوکری سے برطرف کرنے اور 10لاکھ روپے وصول کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ سنڈیکیٹ نے یہ کاروائی پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت کی جس کے مطابق سابقہ رجسٹرار مدثر کامران پر دوران انکوائری متعدد الزامات ثابت ہوئے ہیں جن میں ادارے سے حقائق چھٴْپانے،غیر قانوی بھرتیوں کے احکامات جاری کرنے،بغیر اشتہارکے خود کی پراجیکٹ منیجر تعیناتی،ایڈیشنل رجسٹرار کے عہدے پر رہتے ہوئے ڈبل تنخواہ لینے،انگلش ایکسس پروگرام کے بطور ایڈمنسٹریٹر میرٹ سے ہٹ کر ٹیچرز بھرتی کرنے،پروگرام کے اخراجات کے لئے ایڈوانس پیسوں میں بے قاعدگیوں اور پروگرام کے لئے کتابوں وانسٹرکشنل سامان خریدنے میں 15لاکھ سے زائد کی خردبرد کرنے اور سٹور اور سٹاک آئٹمز میں بے قاعدگیاں شامل ہیں۔

(جاری ہے)

یونیورسٹی سنڈیکیٹ کو جمع کرائی جانے والی انکوائری رپورٹ کے مطابق مدثر کامران نے بطور پراجیکٹ منیجر پاکستان انگلش ایکسس مائیکرو سکالرشپ پروگرام کے تحت بھرتیوں میں باقاعدگیوں اور کتابوں و دیگر انسٹرکشنل سامان کی خرید میں کروڑوں کے فنڈز کا غلط استعمال کیا اور ایڈیشنل رجسٹرار کے عہدے کے علاوہ بطور پراجیکٹ منیجر45000روپے ہر مہینے ڈبل تنخواہ بھی وصول کرتے رہے۔

سنڈیکیٹ نے پیڈا ایکٹ 2006کی روشنی میں مدثر کامران کو اپنا موقف پیش کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا تاہم وہ خودپر لگیالزامات کے دفاع میں خاطرخواہ ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہیجس پر۔سنڈیکیٹ نے مدثر کامران کے خلاف مختلف انکوائری رپورٹس،ریکارڈز اورملزم کی جانب سے دئیے گئے بیانات پر تفصیلی غور کرنے کے بعد پیڈا یکٹ 2006کے شق 13کی روشنی میں فیصلہ جاری کرتے ہوئے ان کو سروس سے بر خاست کردیا۔

قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ نیرواں سال 26 جون کو سابقہ رجسٹرار کی جانب سے دائر کی جانے والی رٹ پٹیشن کو میرٹ کے خلاف قرار دیتے ہوئے خارج کردیا تھا۔ مدثر کامران کے خلاف سنڈیکیٹ کے حکم سیپیڈا ایکٹ 2006 کی روشنی دو مزید انکوائریاں بھی چل رہی ہیں جن میں سابقہ پرائیویٹ سب کیمپسز کے معاملے میں کمپری ہینسوامتحان سے متعلق حقائق چھپائے جس کی وجہ سے سب کیمپسز مالکان کو کروڑوں کا فائدہ جبکہ یونیورسٹی کو کروڑوں کا نقصان پہنچانے سمیت غیر قانونی طریقے سے قائم ہونے والے لاہور سب کیمپس کو قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فاؤنڈیشن آف لاہور سب کیمپس،لمٹ(LIMT)،ایجوکیشنل ویلفیئر فاؤنڈیشن سے کری ایٹوایجوکیشنل ویلفیئر فاؤنڈیشن نام تبدیل کرنے کا کیس سنڈیکیٹ کی سامنے پیش کرنا ہے۔

مزید مدثر کامران نے سابقہ لاہور سب کیمپس کو 5جون 2015کو ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے بی ایس بائیو کیمسٹری،بی ایس بائیو ٹیکنالوجی اور یم فل بائیو کیمسٹری جیسے نئے ڈگری پروگرام شروع کرنے کی اجازت دی جو کہ یونیورسٹی آف سرگودھا مین کیمپس میں بھی نہیں پڑھائے جا رہے تھییہ معاملہ پہلے پر نیب کے ریڈار پر آچکا ہے اور سابق وائس چانسلر نیب کی حراست میں ہیں۔

مدثر کامران جو کہ سابقہ وی سی اکرم چوہدری کے منظور نظر آفیسر رہ چکے ہیں اور غیر قانونی کیمپسز قائم کرنے ودیگر غیر قانونی کاموں میں احکامات جاری کرنے میں فرنٹ مین کا کردار ادا کرتیر?ے ہیں۔واضح رہے کہ سابقہ پرائیویٹ سب کمپسز کے قائم کرنے کے معاملے پر نیب میں سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ایکشن لے رکھا ہے اس کیس میں کیمپسز مالکان نے پلی بارگین کیا ہے کیونکہ یہ کیمپسز غیر قانونی طور پر قائم کئے گئے تھے۔