Live Updates

وزیراعظم عمران خان کا انڈونیشین صدر سے ٹیلیفونک رابطہ

مقبوضہ کشمیر کی مخدوش صورتحال سے آگاہ کیا،بھارتی اقدام سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، عالمی برادری مقبوضہ وادی میں مظالم بند کروانے میں کردارادا کرے۔وزیراعظم عمران خان کی انڈونیشیئن صدر سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اگست 21:57

وزیراعظم عمران خان کا انڈونیشین صدر سے ٹیلیفونک رابطہ
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست 2019ء) وزیراعظم عمران خان نے انڈونیشیاء کے صدر جوکوویدودو سے ٹیلیفونک رابطہ کیا،جس میں وزیراعظم نے انڈونیشیئن صدر کو مقبوضہ کشمیر کی مخدوش صورتحال سے آگاہ کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور انڈونیشیاء کے صدر جوکوویدودو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔جس میں وزیراعظم نے انڈونیشیئن صدر کو مقبوضہ کشمیر کی مخدوش صورتحال سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرکے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی۔بھارتی اقدام سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔بھارت نے مقبوضہ وادی کے مکینوں کو محصور کررکھا ہے جس سے ان کی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری مقبوضہ وادی میں مظالم بند کروانے میں کردارادا کرے۔

(جاری ہے)

انڈونیشیاء کا مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے تعاون قابل تحسین ہے۔ اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے ایران کے صدر حسن روحانی کو ٹیلی فون کیا اور مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ وزیر اعظم عمران خان کا صدر روحانی کو یہ ٹیلی فون بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال سے متعلق عالمی رہنمائوں کو آگاہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

وزیر اعظم نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی بین الاقوامی سطح پر مسلمہ متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کے بھارتی اقدام سے آگاہ کیا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مزید برآں مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت میں کوئی بھی تبدیلی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو گی۔ وزیر اعظم نے خاص طور پربھارتی افواج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میںکریک ڈائوں کے نتیجہ میں بڑے پیمانے پر قتل عام کے سنگین خدشے کو اجاگر کیا اور زور دیا کہ عالمی برادری کو کسی بڑی تباہی سے بچنے کے لئے فوری کردار ادا کرنا چاہئے۔

وزیر اعظم نے ایرانی صدر کو آگاہ کیا کہ گزشتہ 7 دہائیوں سے تصفیہ طلب مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پر امن طریقے سے حل کرنے کے لئے پاکستان نے بارہا بھارت پر زور دیا ہے اور مسلسل کوششوں کی ہیں۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لئے تمام ممکنہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری مسلمانوں کو پرامن زندگی بسر کرنے کے لئے تمام قانونی حقوق اور سہولیات کے استعمال کا حق ملنا چاہئے۔
مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری ختم سے متعلق تازہ ترین معلومات