نیب ملک سے ہر قسم کی بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے پرعزم ہے، نیب احتساب سب کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بدعنوان عناصر کے بلا امتیاز احتساب کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے،چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال

پیر اگست 00:20

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 اگست2019ء) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب ملک سے ہر قسم کی بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے پرعزم ہے۔ نیب احتساب سب کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بدعنوان عناصر کے بلا امتیاز احتساب کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ نیب نے آگاہی تدارک اور انفورسمنٹ پر مشتمل سہ جہتی پالیسی اختیار کی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ نیب نے اپنے قیام سے اب تک 326 ارب روپے ریکور کیے ہیں جبکہ 2018 میں 30 ارب ریکور کیا۔ 2019 میں ریکور کی گئی رقم 2018کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ مختلف احتساب عدالتوں میں 1249 بدعنوانی کے مقدمات دائر کئے ہیں ۔ نیب کو 2018ء کے مقابلے میں 2019ء میں زیادہ شکایات موصول ہوئی ہیں۔

(جاری ہے)

گزشتہ 19 ماہ کے اعداد و شمار کے موازنہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیب کے تمام افسران بدعنوانی کے خلاف جنگ میں اپنا قومی فرض ادا کرتے ہوئے بھرپور محنت اور دیانتداری سے کام کر رہے ہیں۔

نیب کو شکایات کی تعداد میں اضافہ نیب پر عوام کے اعتماد کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی مالی کمپنیاں منی لانڈرنگ، بینک فراڈ، بینک نادہندگی، اختیارات سے تجاوز اور سرکاری ملازمین کی جانب سے سرکاری فنڈز میں خورد برد کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانا نیب کی اولین ترجیحات ہیں۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی دانشمندانہ قیادت میں گزشتہ 19 ماہ کے دوران نیب نے ریکارڈ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

نیب کو آپریشن، پراسیکیوشن، ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ اور آگاہی و تدارک کے شعبوں سمیت ادارے کے تمام شعبوں کی خوبیوں اور خامیوں کے تجزیئے کے بعد اس کے طریقہ کار کو بہتر بنا کر اسے فعال بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے جدید فرانزک لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیئے کی سہولت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پلڈاٹ، مشال پاکستان، ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل اور عالمی اقتصادی فورم جیسے معتبر قومی اور عالمی اداروں نے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے نیب کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔ اسی طرح گیلانی اینڈ گیلپ سروے میں 59 فیصد لوگوں نے نیب پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لئے 10 ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے جس میں شکایت کی جانچ پڑتال کے لئے دو ماہ، انکوائری کے لئے چار ماہ اور انوسٹی گیشن کے لئے چار ماہ مقرر ہیں۔ چیئرمین نیب نے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی ہے کہ تمام شکایات، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز قانون کے مطابق مقررہ عرصہ کے دوران نمٹائی جائیں تاہم اگر مقررہ وقت میں توسیع کی ضرورت ہو تو مجاز حکام سے منظوری حاصل کی جائے۔