پاکستان کا اپنے اصولی پالیسی مؤقف کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے کا اعادہ ‘ تمام فریقین مذاکرات کے ذریعے جاری سیاسی عمل کا حل تلاش کرنے کے لئے دوبارہ سرگرمی کا آغاز کریں‘ دفترخارجہ

پیر ستمبر 00:20

پاکستان کا اپنے اصولی پالیسی مؤقف کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی ..
اسلام آباد ۔ 8 ستمبر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 ستمبر2019ء) پاکستان نے اپنے اصولی پالیسی مؤقفکہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے کا اعادہ کرتے ہوئے تمام اطراف پر زور دیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے جاری سیاسی عمل کا حل تلاش کرنے کے لئے دوبارہ سرگرمی کا آغاز کریں۔

(جاری ہے)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ کیمپ ڈیویڈ میں ہونے والی ملاقات کی منسوخی کے حوالے سے اتوار کو دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مذاکراتی عمل کے جلد دوبارہ آغاز کے ساتھ خوشگوار مصروفیت کا خواہاں ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے ہمیشہ پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات چیت کے عمل کو جاری رکھیں۔پاکستان نیک نیتی اور مشترکہ ذمہ داری کے طور پر امن اور مفاہمتی عمل کی حمایت کی ہے اور خلوص نیت اور عزم کے ساتھ تمام فریقین کے مذاکراتی عمل میں مصروف عمل رہنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ پاکستان صورتحال پر نظر رکھ ہوئے ہے۔