جے یو آئی سندھ نے کراچی مسائل کے حل کیلئے قائم کمیٹی کو مسترد کردیا

لسانیت اور عصبیت کو فروغ دیا جارہا ہے ، حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، علامہ راشد خالد محمود سومرو

بدھ ستمبر 23:39

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 ستمبر2019ء) جے یو آئی سندھ نے کراچی کے مسائل کے حل کیلئے قائم کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے اسے لسانیت اور تعصبانہ عمل قرار دے دیا۔ وفاقی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، عوام سے اپنی نااہلی چھپانے کیلئے سندھ میں لسانیت کو ہوا دی جا رہی ہے۔ عمران نیازی پرویز مشرف کا تسلسل ہے، کمیٹی میں ایک لسانی جماعت اور پی ٹی آئی کے وہ ممبران شامل ہیں جو ایک زبان بولتے ہیں، دیگر سیاسی مذہبی جماعتوں اور تاجروں اور سول سوسائٹی کو نمائندگی نہ دینا بددیانتی ہے، جمعیت علمائے اسلام سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے سکھر کے قریب ہالانی میں شہدا اسلام کانفرنس اور سکھر ایئرپورٹ پر مقامی رہنماں اور کارکنوں سے ملاقات میں گفتگو کررہے تھے ۔

(جاری ہے)

انہوں کراچی شہر کے مسائل کے حل کیلئے قائم سیلکٹڈ کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے سے لسانیت اور بدترین تعصبانہ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت عمران نیازی کی سرکردگی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی میں ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے ایک زبان بولنے والے ممبران کو شامل کیا گیا ہے جبکہ سندھ حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں جے یو آئی، پی پی ، مسلم لیگ ن ، جی ڈی اے، اے این پی اور جماعت اسلامی سمیت کسی پارٹی کے نمائندوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے، کیا پی ٹی آئی حکومت نے خیبر پختون خواہ اور پنجاب سمیت بلوچستان میں مسائل کے حل کیلئے کوئی کمیٹی قائم کی ہے، سندھ میں ایک بار پھر پرویز مشرف کی پالیسیوں کو تسلسل دے کر آگے بڑھایا جا رہا ہے، ہم بھی چاہتے ہیں کہ کراچی سمیت سندھ صاف ستھرا ہو لیکن اس کا یہ مطلب قطعی طور پر نہیں ہے کہ آپ کراچی کو ایک لسانی جماعت کے حوالے کردیں، انہوں نے مزید سندھ مزید تعصب لسانیت اور فرقہ واریت کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے، مولانا راشد محمود سومرو نے کہا کہ وزیر اعظم ایک پارٹی کے نہیں بلکہ وفاق کے نمائندہ ہوتے ہیں ، وہ کسی اور صوبے میں جاکر وہاں کی حکومت کے بغیر اجلاس کی صدارت کرکے اس طرح کی کمیٹیاں بنا سکتے ہیں، جعلی نااہل سلیکٹڈ وزیر اعظم کو گھر جانا ہوگا، اصل میں عوام کی توجہ مسائل سے ہٹانے کیلئے نفرت پھیلائی جا رہی ہی. انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعصب کی عینک اتار کر سلیکٹڈ کمیٹی کو معطل کردیا جائے ورنہ سندھ کے عوام فیصلہ سنا دیں گے اور جے یو آئی کسی بھی صورت خاموش نہیں رہے گی۔