راناثناءاللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 28ستمبر تک توسیع

حکمران ٹولہ کشمیر کا سودا کر چکا ہے اور پاکستان کی سالمیت کو بھی ان سے خطرہ ہے. سابق صوبائی وزیر

Mian Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ ستمبر 12:26

راناثناءاللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 28ستمبر تک توسیع
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 ستمبر۔2019ء) لاہور کی انسداد منشیات کی عدالت نے منشیات کیس میں گرفتار سابق وزیر قانون راناثناءاللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 28ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے فریقین کے وکلا سے دلائل طلب کر لیے ہیں. پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ کو انسداد منشیات فورس نے جولائی میں لاہور سے گرفتار کیا تھا جہاں ان پر گاڑی سے منشیات برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا‘ہفتے کو ڈیوٹی جج خالد بشیر نے رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات کیس کی سماعت کی جہاں رانا ثناءاللہ کی جانب سے اعظم نذیر تارڑ اور فرہاد علی شاہ نے دلائل دیے.

(جاری ہے)

مقدمے کی سماعت کے دوران رانا ثنااللہ کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل اور دیگر ملزمان کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں اور تبدیل ہونے والے جج صاحب کے سامنے ہمارے دلائل مکمل ہو گئے تھے لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ سارے پاکستان کو پتا ہے. جج خالد بشیر نے کہا کہ ڈیوٹی جج صرف ارجنٹ کیسز کی سماعت کر سکتا ہے اور میں صرف ڈیوٹی جج کے طور پر کیس سن رہا ہوں جس پر رانا ثناللہ کے وکیل نے کہا کہ ضمانت سے ارجنٹ معاملہ ہو ہی نہیں سکتا اور ہمیں اے این ایف نے ابھی تک گرفتاری کی فوٹیج بھی نہیں دی.

اس موقع پر اے این ایف کے وکیل رانا کاشف نے کہا کہ یہ کیس مجھے اور میرے سینیئر کولیگ ڈاکٹر صلاح الدین کو ملا ہے لیکن میرے سینیئر کولیگ کوئٹہ میں زیر علاج ہیں. عدالت میں پیشی کے دوران رانا ثنااللہ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ایک وزیر نے کہا کہ ہمارے پاس رانا ثنا اللہ کی ہیروئن کی ویڈیو ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی ویڈیو نہیں اور میرے خلاف جھوٹا کیس بنایا گیا ہے.

انہوں نے کہا کہ قوم سے جھوٹ بولا گیا، مجھے سڑک سے پکڑ کر عدالت میں پیش کیا گیا اور اگلے دن عدالت میں پتا لگا کہ مجھ پر 15 کلو منشیات ڈال دی گئی ہے‘رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ مجھ سے کہا جا رہا ہے کہ میں نے یہ پراپرٹی ہیروئن بیچ کر بنائی ہے اور میرے ہر اثاثے کی مالیت بڑھا کر اے این ایف ڈرامہ کر رہا ہے. اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ چھوٹی سی تاریخ دے دیں ہم آئندہ سماعت پر پیش ہوں جائیں گے جس پر وکیل صفائی نے کہا کہ یہ کیس پچھلے ہفتے کے لیے فکس تھا لیکن اس میں بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی.

اس دوران جج نے اے این ایف کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کو کس نے یہ کیس دیا ہے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ مجھے زبانی طور پر کہا گیا ہے کہ رانا ثنا اللہ کا کیس میں دیکھوں گا. جج نے کہا کہ آپ نوٹیفکیشن لے کہ آئیں کہ یہ کیس آپ کو ملا ہے جس پر اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ کیس کی پیروی کا نوٹیفکیشن نہیں ہوتا اور ہم عدالت میں بحث کے لیے تیار ہیں.

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ ڈاکٹر صلاح الدین مینگل کو کیس میں تعینات کردیا گیا ہے، انہوں نے کیس کی باقاعدہ تیاری کی ہوئی ہے اور جلد صحت یاب ہوکر اس کیس میں پیش ہوں گے. انہوں نے کہا کہ ملزموں کی ضمانت پر رہائی کی درخواستوں پر دلائل کے لیے مزید مہلت دی جائے جس پر عدالت نے اے این ایف کے وکیل کی استدعا منظور کر لی. انسداد منشیات کی عدالت نے رانا ثنااللہ کے ریمانڈ میں 14روز کی توسیع کرتے ہوئے انہیں 28ستمبر پیش کرنے کا حکم دیا .بعدازاں عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکمران ٹولہ کشمیر کا سودا کر چکا ہے اور پاکستان کی سالمیت کو بھی ان سے خطرہ ہے‘انہوں نے کہا کہ اب ضروری ہے کہ جب پارٹی فیصلہ کرے تو لوگ سڑکوں پر نکلیں اور اس حکومت کو گھر بھیجیں کیونکہ یہ ملک و قوم کے لیے ندامت کا باعث ہے.

حکومت سے ڈیل کے حوالے سے سوال پر مسلم لیگ نون کے رہنما نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ڈیل نہیں ہو رہی، یہ صرف ابہام پھیلایا جا رہا ہے، کس بات کی ڈیل؟رانا ثنااللہ نے کہا کہ ظلم برداشت کرنے کے بعد ہم کس بات کی ڈیل کریں گے، کیا یہ ظلم ہم ڈیل کرنے کے لیے برداشت کر رہے ہیں؟ کوئی ڈیل نہیں کرے گا.