چوہدری نثار کی سیاست میں واپسی کا وقت بتا دیا گیا

چوہدری نثار سیاست میں اس وقت متحرک ہوں گے جب میاں شہباز شریف فعال کردار ادا کر رہے ہوں گے،معروف صحافی نے چوہدری نثار کی اسٹیبلششمنٹ کو پسند آںے والی عادت بھی بتا دی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر ستمبر 17:21

چوہدری نثار کی سیاست میں واپسی کا وقت بتا دیا گیا
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16 ستمبر 2019ء) : معروف صحافی عمران یعقوب کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار سے متعلق میں پہلا بھی کہہ چکا ہوں کہ وہ کبھی بھی اپنی سیٹ نہیں چھوڑیں گے۔دوسری بات یہ کہ چوہدری نثار سیاست میں اس وقت متحرک ہوں گے جب میاں شہباز شریف سیاست میں ایکٹیو کردارا ادا کر رہے ہوں گے۔تیسری بات یہ کہ اگر چوہدری نثار کی سیاست کا طریقہ کار دیکھا جائے تو اسٹیبلشمنٹ میں بھی چوہدری نثار کے بارے میں اچھی رائے ہے۔

چوہدری نثار کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اور نہ ہی چوہدری نثار پر کرپشن کے کوئی ثبوت ہیں اس لیے وہ سب کے لیے قابل قبول ہیں سوائے اپنی جماعت کے ساتھیوں کے لیے۔کیونکہ چوہدری نثار کی جماعت کے لوگوں ان سے کچھ باتوں پر اختلاف رکھتے ہیں۔لیکن چوہدری نثار ذاتی تعلقات پر سمجھوتہ نہیں کرتے،بڑا سخت موقف استعمال کرتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ دیگر ارکان ان سے اخلتلاف کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ چودھری نثار علی خان نے پارٹی قیادت سے اختلافات کی وجہ سے آزاد حیثیت میں عام انتخابات 2018ء میں حصہ لیا تھا۔ عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ ن کے رہنما چودھری نثار علی خان نے پارٹی قیادت کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔چودھری نثار علی خان نے عام انتخابات 2018ء میں چار نشستوں سےحصہ لیا جس میں دو نشستیں قومی اسمبلی جبکہ دو صوبائی اسمبلی کی تھیں۔

چودھری نثار علی خان کو قومی اسمبلی کی دو نشستوں این اے 59 اور این اے 63 سے اور صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 12 سے شکست کا سامنا ہوا، جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 10 سے چودھری نثار علی خان کامیاب قرار پائے لیکن چودھری نثار علی خان نے پنجاب اسمبلی میں حلف نہیں اُٹھایا اور نہ ہی اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعلیٰ کے انتخاب میں حصہ لیا۔ چودھری نثار علی خان نے مسلم لیگ ن سے لاتعلقی کا اظہار بھی کیا تھا جس کے بعد سے مسلم لیگ ن میں فارورڈ بلاک بننے اور پارٹی کے اندر ہی پارٹی بننے کے امکانات روشن ہو گئے تھے جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی قیادت بھی پریشان رہی۔