صوبے میں لاکھوں معذور افراد کا استحصال اب بھی جاری ہے ،آغا محمد

اخبارات میں 3% کوٹہ مشتہر کرنے کے باوجودمعذور افراد کو بھرتیوں سے محروم کیا جانا کھلم کھلا ناانصافی ہے، رہنماآل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن

جمعہ ستمبر 18:21

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2019ء) آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن )بلوچستان( کے رہنما آغا محمد نے ایک اخباری بیان کے ذریعے کہا ہے کہ صوبے میں لاکھوں معذور افراد کا استحصال اب بھی جاری ہے۔ اخبارات میں 3% کوٹہ مشتہر کرنے کے باوجودمعذور افراد کو بھرتیوں سے محروم کیا جانا کھلم کھلا ناانصافی ہے۔صوبے میں بڑی تعدادمیں تعلیم یافتہ معذور افراد کئی سالوں سے دربدر کی ٹھوکریں کھا کر بھوک و افلاس کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔

ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت صوبے کے لاکھوں معذور افراد کو سرکاری و غیر سرکاری شعبوں میں مختص 3% کوٹے سے محروم رکھ کر ان کا استحصال کیا جارہا ہے جو کہ اس غریب اور معذور طبقے کے ساتھ انتہائی ظلم و زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پیشتر ان کی تنظیم کی جانب سے صوبے میں لاکھوں معذور فراد کے حقوق کی حصولیابی کیلئے کانفرنسز، مظاہرے اور جدوجہد قابل ستائش ہیں۔

(جاری ہے)

تنظیم کے صدر عزت اللہ،جنرل سیکریٹری خواجہ نور اور دیگر عہدیداروں نے صوبائی حکومت سے مذاکرات کے باوجود دو سال کے عرصے تک معذور افراد کے جائز مطالبات کا حل نہ ہونا صوبائی حکومت کی ناکامی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان ،وزیر اعلیٰ بلوچستان، گورنر بلوچستان، چیف سیکریٹری بلوچستان اور سیکریٹری سوشل ویلفیئر بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صوبے کے لاکھوں معذور افراد جو کہ ہمارے معاشرے کا ایک حقدار طبقہ ہے صوبے کے وسائل پر ان لاکھوں معذور افرد کا آئینی اور قانونی حق ہے۔

ان کے تمام جائزمطالبات جس میں معذور افراد ایکٹ، تمام سرکاری و غیر سرکاری شعبوں میں 3% بھرتی کوٹہ، تمام اداروں میں ان کیلئے آسامیاں الگ تشہیر کرنے، صاف ، شفاف طریقے اور میرٹ پر بھرتی کا بندوبست کرنے، فوری طور پر بلوچستان ڈس ایبلٹی ایکٹ نافذ کرنے، صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں دوسرے صوبوں کی طرح معذور طلباء و طالبات کو مفت تعلیم فراہم کرنے، حالیہ مہنگائی کے تناسب سے 15 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کرنے، علاج و معالجہ مفت فراہم کرنے،03 ہزار کنونس الائونس منظور کرنے سمیت دیگر تمام جائز مطالبات پر فی الفور عملدرآمد کرکے صوبے کے تمام معذور افراد کو دوسرے انسانوں کے برابر درجہ دیا جائے تاکہ اس سماج و معاشرے میں وہ بھی عزت کی زندگی گزار سکیں۔

انہوں نے تنظیم معذوران کے صدر و جنرل سیکریٹری کو یقین دلایا کہ وہ معذور افراد کے حقوق کیلئے ہر فورم پر نہ صرف آواز بلند کریں گے بلکہ ان کے شانہ بشانہ جدوجہد میں شامل ہوں گے۔