تاجروں کا مشیرِتجارت عبدالرزاق داؤد کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ

بھاری ٹیکسز اور غیر ضروری ڈیوٹیز نے برآمدات کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ معاشی رفتار کو بھی سست کردیا، تاجر

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ اتوار اکتوبر 13:02

تاجروں کا مشیرِتجارت عبدالرزاق داؤد کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 13 اکتوبر 2019ء) تاجروں کا مشیرِتجارت عبدالرزاق داؤد کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ تاجروں نے کہا ہے کہ بھاری ٹیکسز اور غیر ضروری ڈیوٹیز نے برآمدات کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ معاشی رفتار کو بھی سست کردیا ہے۔ چیمبرز آف کامرس کے سینئر نائب صدر مظہر ناصر کے مطابق ملک میں معاشی بدامنی کا راج ہے۔

سابق صدر فیڈریشن ہاؤس خالد نے کہا کہ حکومت کی ساری توجہ ٹیکس جمع کرنے پر مرکوز ہے، آسان کاروبار کی پالیسی پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔ فیڈریشن چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز ملکی 120 تاجر صنعت کار اور ایسوسی ایشن کی نمائندہ تنظیم ہے جس نے معاشی معاملات پر سوال اٹھادیا ہے۔ اس سے قبل تاجر برادری نے 28 اور 29 اکتوبر کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق ملک بھر کے تاجر لازمی سیلز ٹیکس رجسٹریشن، اشیا کی خرید و فروخت کے لیے شناختی کارڈ کی کاپی فراہم کرنے کی شرط سمیت مختلف مسائل پر ڈیڈلاک برقرار رہنے کے باعث فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) ہیڈ کوارٹرز کے باہر مظاہرے میں شرکت کے لیے اسلام آباد میں احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران مظاہرین کوریڈ زون میں داخل ہونے سے روکا گیا۔

تاجر برادری کی جانب سے ملک بھر میں سٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے کا فیصلہ آل پاکستان انجمن تاجران ( اے پی اے ٹی) نے حکومت اور تاجروں کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور ناکام ہونے کے بعد کیا گیا۔ تاجروں کو احتجاج کے دوران اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ایف بی آر کے سینئر عہدیدار سے تاجروں کے مطالبات سننے کی درخواست کی جائے گی جس کے بعد انہوں نے پولیس کی رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش نہیں کی۔