ایرانی لیڈرشپ کا ڈی جی آئی ایس آئی کی انٹیلی جنس معلومات سے مکمل اتفاق

وزیراعظم عمران خان کے دورے سے سعودی عرب،ایران میں برف پگھلنا شروع ہوگئی،پاکستان نے خبردارکیا کہ سعودی عرب اور ایران کی لڑائی کوئی اور شروع کروانا چاہتا ہے، دونوں ممالک کوتحمل سے سوچنا چاہیے۔سینئر تجزیہ کارکا تبصرہ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اکتوبر 22:50

ایرانی لیڈرشپ کا ڈی جی آئی ایس آئی کی انٹیلی جنس معلومات سے مکمل اتفاق
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 اکتوبر2019ء) وزیراعظم عمران خان کے دورے سے سعودی عرب، ایران میں برف پگھلنا شروع ہوگئی، پاکستان نے خبردارکیا کہ سعودی عرب اور ایران کی لڑائی کوئی اور شروع کروانا چاہتا ہے، دونوں ممالک کوتحمل سے سوچنا چاہیے، ایرانی لیڈرشپ نے ڈی جی آئی ایس آئی کی انٹیلی جنس معلومات سے مکمل اتفاق کیا۔سینئر تجزیہ کار صابرشاکر نے دھرنے اوروزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے والوں کے ارادے اچھے نہیں ہیں، ان کو نظر اندازنہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بہت زیادہ تناؤ اور غلط فہمیاں ہیں، دونوں ایک دوسرے کو دیکھنا بھی نہیں چاہتے۔طاقتورقوتیں بھی چاہتی ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان جنگ ہو، تاکہ ان کا اسلحہ فروخت ہواور مسلمان بھی کمزور ہوجائیں۔

(جاری ہے)

یمن اور شام میں بھی شیعہ سنی والے معاملات چل رہے ہیں۔سعودی آئل ریفائنری پر میزائل داغ دیے گئے، اس سے حالات مزید خراب ہوگئے، پاکستان سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کررہا ہے۔

ان کو خبردار کیا ہے کہ یہ معاملہ سادہ نہیں ہے۔بلکہ کچھ قوتیں دونوں ملکوں کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں۔ایران کو کچھ معلومات دی گئی ہیں ، کہ سعودی عرب اور ایران کی لڑائی کوئی اور شروع کروانا چاہتا ہے۔ لہذا خطے میں امن واستحکام کیلئے دونوں ممالک کوتحمل سے سوچنا چاہیے۔ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی کچھ انٹیلی جنس معلومات شیئر کی ہیں، ایرانی لیڈرشپ نے ان معلومات پر اعتماد کیا اور مصدق مانا ہے۔

وزیراعظم عمران خان اب ایرانی قیادت کا پیغام لے کرسعودی عرب جائیں گے۔ جہاں وزیراعظم عمران خان چیزیں سعودی ولی عہد کے ساتھ شیئر کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران سے برف ضرور پگھلی ہے۔ڈی جی آئی ایس آئی کی ملاقات ایرانی انٹیلی جنس چیف کے ساتھ بھی ہوئی ہے۔ پاکستان قیادت نے ان سے بھی کافی چیزیں شیئر کی ہیں۔سعودی عرب میں سعودی انٹیلی جنس چیف سے بھی تمام چیزیں شیئر کی جائیں گی۔