کشمیر کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہوں

سوچ سمجھ کر بولتا ہوں اور پھر اس پر قائم رہتا ہوں،مہاتیر محمد

Sajjad Qadir سجاد قادر بدھ اکتوبر 06:41

کشمیر کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہوں
کوالا لمپور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اکتوبر2019ء)   غیرت مند قومیں کسی بھی قسم کے حالات میں قومی غیرت و حمیت پر الٹے قدم نہیں چلتیں،صادق لوگوں کی بھی یہی نشانی ہے کہ وہ اپنے قول اور عہد کے پابند ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ملائیشین لیڈر مہاتیر محمد دنیا بھر کے مسلمانوں میں بڑے قد کاٹھ سے کھڑے نظر آتے ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انہوں نے کشمیر کے حوالے سے جو لب کشائی کی اس وجہ سے بھارت میں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا مگر وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔

تاہم اب بھارت کے تاجروں نے کہا ہے کہ مہاتیر محمد کشمیر پر اپنے بیان کوواپس لیں وگرنہ وہ پام آئل کی خریداری روک دیں گے۔تاہم ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ وہ بھارتی تاجروں کی جانب سے ملائیشین پام آئل کے بائیکاٹ کی دھمکی کے باوجود کشمیر سے متعلق اپنا بیان واپس نہیں لیں گے۔

(جاری ہے)

گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں مہاتیر محمد نے بھی مسئلہ کشمیر پر کھل کر بات کی اور جموں وکشمیر کو ایک الگ ملک قرار دیا تھا۔

خطاب میں مہاتیر محمد نے بھارت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے باوجودجموں و کشمیر پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کیا گیا۔مہاتیر محمد کے اس بیان پر بھارت بہت سیخ پا ہوا تھااور ملائیشین وزیراعظم پر بیان واپس لینے کے لیے دباﺅ ڈالا تھا مگر مہاتیر محمد بھارت کی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے بیان پر ڈٹ گئے تھے۔

گزشتہ روز بھارت میں کھانے کے تیل کے تاجروں کی ایک تنظیم نے اپنے اراکین سے مطالبہ کیا کہ وہ مہاتیر محمد کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر سے متعلق بیان کی وجہ سے ملائیشیا سے پام آئل کی خریداری بند کردیں۔غیرملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اپنی پارلیمنٹ کے باہر رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے مہاتیر محمد نے کہا کہ وہ سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں اور نہ تو اسے تبدیل کرتے ہیں ،نہ ہی واپس لیتے ہیں۔

"ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کرنے چاہیے،ورنہ اقوام متحدہ کا فائدہ کیا ہے؟"مہاتیر محمد نے کہا کہ وہ بھارتی تاجروں کے بائیکاٹ کے اثرات کا جائزہ لیں گے اور اس مسئلے کو حل کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ بھارتی حکومت کا نہیں ہے بلکہ ایک تنظیم کا ہے اس لیے وہ دیکھیں گے اِن لوگوں سے کیسے بات کی جا سکتی ہے کیوں کہ تجارت دو طرفہ چیز ہے اس لیے تجارتی جنگ کو بڑھانا بری چیز ہے۔اور اگر بھارت ہر حوالے سے تجارتی جنگ پر اتر آئے گا تو ہم بھی اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے طور طریقوں سے چلیں گے ۔جہاں تک اقوام متحدہ میں یرے کشمیر ایشو کے موقف کی بات ہے تو میں آج بھی اپنے موقف پر قائم ہوں اور آئندہ بھی قائم رہوں گا۔