ڈیفنس سے اغوا ہونے والی طالبہ دعا منگی گھر واپس پہنچ گئی

دعا منگی کی رہائی ڈیڑھ کروڑ تاوان کی ادائیگی کے بعد ہونے کا انکشاف ہواہے،اہل خانہ تفصیلات فراہم کرنے سے گریزاں الحمدللہ د منگی عا گھرپر خیریت سے ہے، کمیونٹی سے مشاورت کے بعد دعا منگی سے متعلق فیصلہ کریں گے،ماموں دعا منگی کی تصدیق

ہفتہ دسمبر 17:20

ڈیفنس سے اغوا ہونے والی طالبہ دعا منگی گھر واپس پہنچ گئی
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 دسمبر2019ء) 30نومبر کو رات گئے ڈیفنس سے اغوا ہونے والی دعا منگی ازخود گھر پہنچ گئی ہے۔ دعا منگی کی رہائی ڈیڑھ کروڑ تاوان کی ادائیگی کے بعد ہونے کا انکشاف ہواہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے ضلع جنوبی کے علاقے ڈیفنس ہاسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ ای) میں بخاری کمرشل سے اغوا ہونے والی طالبہ دعا منگی 6دن بعدگھر واپس پہنچ گئی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق دعا منگی گزشتہ رات گھر واپس پہنچی تھی تاہم ان کے اہلِ خانہ اس حوالے سے کوئی بھی تفصیلات فراہم کرنے سے گریزاں ہیں۔ ذرائع کے مطابق دعا منگی کو بازیاب کرانے میں سندھ پولیس ناکام رہی اوراس کی رہائی مبینہ طورپرتاوان کے عوض عمل میں آئی۔دعا منگی کے ماموں وسیم منگی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا الحمدللہ دعا گھرپر خیریت سے ہے، کمیونٹی سے مشاورت کے بعد دعا منگی سے متعلق فیصلہ کریں گے، معاملے پر بہت سے پہلو ایک ساتھ اکٹھے ہوگئے ہیں، دعا منگی کی واپسی میں بہت سی چیزیں شامل ہیں۔

(جاری ہے)

گذشتہ روز دعا منگی کے کیس میں زخمی ہونے والے حارث نے ابتدائی بیان ریکارڈ کرایا تھا ، جس میں زخمی حارث نے سی سی ٹی وی فوٹیج میں گاڑی کو شناخت کرلیا تھا۔تفتیش کاروں نے حارث سے تحریری سوال کیا کہ اغوا کاروں کی تعداد کتنی تھی جس پر حارث سے پولیس کو بتایا کہ ملزمان کی تعداد 4 سے 5 تھی۔ پانچ دسمبر کی شب دعا منگی کے اہل خانہ کو انٹرنیٹ سے مشکوک فون کالز موصول ہوئیں تھیں اور ان سے رہائی کے لیے ڈھائی لاکھ ڈالرز تاوان کا مطالبہ کیا گیاتھا۔

اس ضمن میں ڈی آئی ساتھ زون نے بتایا مقدمہ میں تفتیش جاری ہے مزید تفصیلات سے جلد مطلع کیا جائے گا۔یاد رہے کہ 30 نومبر کو بخاری کمرشل میں ایک ریستوران کے قریب سے کار سوار ملزمان نے دعا نامی طالبہ کو زبردستی اغوا کیا تھا جبکہ لڑکی کے ساتھ موجود نوجوان حارث فتح سومرو فائرنگ سے زخمی ہوگیا تھا۔واقعے کا مقدمہ درخشاں تھانے میں زخمی نوجوان حارث فتح سومرو کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

بعدازاں دعا منگی کی بازیابی میں ناکامی اور کوئی سراغ نہ ملنے پر اہل خانہ اور سول سوسائٹی کے افراد نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا جس میں دعا کی جلد بازیابی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پولیس نے دعا کے اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی شاہراہِ فیصل پولیس اسٹیشن کے علاقے گلشن سے برآمد کرنے کا دعوی کیا تھا۔تفتیش سے منسلک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ جو گاڑی برآمد ہوئی وہ اغوا کے واقعے میں استعمال ہوئی ہے اور یہ گاڑی 27 نومبر کو فیروز آباد سے چھینی گئی تھی جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ملزمان نے پہلے گاڑی چھینی جس کے بعد لڑکی کو اغوا کیا۔

مغوی طالبہ کے اہل خانہ نے ابتدائی طور پر طلبا کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا کیونکہ اطلاعات تھیں کہ ان کا کسی سے جھگڑا ہوا تھا لیکن طلبہ کے ملوث ہونے کے حوالے سے کوئی مصدقہ ثبوت نہیں مل سکے تھے۔ ڈی آئی جی ساتھ زون شرجیل کھرل نے بتایا تھا کہ 'یہ بظاہر اغوا برائے تاوان کا کیس ہی'، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ طالبہ کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا لیکن انہوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی تھی۔اس سے قبل رواں برس مئی میں ڈی ایچ اے سے ہی ایک لڑکی بسمہ کو اغوا کیا گیا تھا اور وہ بھی مبینہ طور پر تاوان کی ادائیگی کے بعد گھر آگئی تھیں۔