لیفٹیننٹ کرنل(ر) محمد سلیمان ایک عظیم کمانڈو

1971ء بہادری کی ایک ایسی داستان جوہرپاکستانی کا سر فخر سے بلند کردے

Usama Ch اسامہ چوہدری پیر دسمبر 22:19

لیفٹیننٹ کرنل(ر) محمد سلیمان ایک عظیم کمانڈو
’کرنل محمد سلیمان ‘عظیم کمانڈوتھے ۔ وہ شخص جس نے 1971کی پاک بھارت جنگ میں ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا تھا اور ایک زخمی دوست کے ساتھ اس کو کاندھوں پر اٹھا کر چلے گئے تھے۔ 
ہر شخص کو یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی کہ جنرل مشرف ہمیشہ اپنے کورس میٹ کو محمد سلیمان "دی میگنیفیسنٹ" کے طور پر ہی کیوں حوالہ دیتے ہیں ۔
1971میں ایک ماں نے اپنے بیٹے کو گلے لگایااور جب وہ جنگ کے لئے روانہ ہونے لگا تو اس کے پیار بھرے الفاظ تھے "جا پتر اللہ دے ہیوالے ۔

لاوٹ کر آئیں غازی یا شہید" ۔
جنگ کے دنوں میں ایک رات ایک بنکر میں دو کمانڈوز ایک دوسرے کے ساتھ مذاق کر رہے تھے تاکہ اپنا حوصلہ بلند رکھ سکیں ۔ایس ایس جی بلال رانا اپنے دوست کی طرف متوجہ ہوئے اورکہا کہ "یار ، میرا بولا وا آگیا ہےلیکن مجھ سے ایک بات کا وعدہ کرواورمیرا یہ دستی بم لے لو اور اگر دشمن قریب آجائے تو دستی بم استعمال کرلینا لیکن کبھی مجھے ان کے قبضہ میں نہ جانے دینا اور ایک آخری بات اگر آپ کے گھر بیٹا پیدا ہو تو اسکانام ’بلال ‘ رکھنااور اس جملے کے ساتھ ہی وہ دونوں بے قابو قہقہہوں سے ہنس پڑے۔

(جاری ہے)

10 دسمبر 1971 کوایک مشن کے دوران رانا بلال نے بہادری سے لڑائی کی اور شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئے۔
پاکستان کی تاریخ کے اس سیاہ دن، 16 دسمبر 1971 کو ، جنرل نیازی نے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال دینے کا حکم دے دیااور "سقوط ڈھاکہ"کی خبریں پھیل گئیں۔ جیسے ہی یہ الفاظ کرنل محمد سلیمان کے کانوں میں بڑے توا نکا اپنی ماہ اور اپنے دوست محمد بلال سے کیا گیا وعدہ یاد آگیا ۔

انھوں نے ڈھاکہ کینٹ میں اپنی بھری ہوئی کلاشنکوف رائفل کو لے کر غصے سے باہر آئے۔انھوں نے جنرل نیازی کو دیکھا۔ کرنل سلیمان کی آنکھوں میں ہتھیار ڈالنے کے احکامات کو قبول کرنے سے صاف انکار نظر آرہا تھا۔ متکبر جنرل نیازی کا مقابلہ کیا اور ایک مرحلے پر جرنیل نے زوردے کر کہا "میں کمانڈر ہوں اور میں آپ کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیتا ہوں"۔

سلیمان نے جواب دیا ، "آپ نے شکست قبول کرلی ہے اور آپ ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ آپ کمانڈر بننے کا اخلاقی اختیارکھو چکے ہیں، میں آپ کے احکامات کو ماننے سے انکار کرتا ہوں۔" سلیمان نے جنرل نیازی کو یہ جوا ب ذہنی سکون سے دیا۔ جنرل نیازی نے چیخ چیخ کر کہا "آپ بے وقوف ہیں اور فرار ہونے کی کوشش میں آپ مارے جائینگے"۔ سلیمان نے آخری بار اور کہا کہ "میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں جنگی قیدی کی حیثیت سے قید نہیں ہونگا، میری والدہ صرف میری واپسی کو غازی یا شہید قبول کریں گی اور کوئی اور راستہ نہیں ہےمیرے پاس، میں دشمن سے لڑنے آیا ہوں ، دشمن کے سامنے سرنڈر کرنے نہیں۔

17دسمبر1971کی رات کو کرنل محمد سلیمان اندھیرے میں غائب ہو گئے اور دشمن کو دوبارہ نظر نہیں آئے۔ لیکن جب سلیمان نے ہیڈکوارٹر ایسٹرن کمانڈ چھوڑا تو وہ اکیلے نہیں بچے تھے۔ میجر پی ڈی خان بھی انکے ہمراہ تھے ۔انکے کھٹنے میں گولی لگی ہوئی تھی اور سی ایم ایچ میں موجود تھے۔ سلیمان سی ایم ایچ گئے اور پی ڈی خان سے کہا کہ وہ ساتھ چلیں۔ پی ڈی خان نے اس کی وضاحت کی وہ کہ بری طرح سے زخمی ہیں اور وہ انکے فرار ہونے میں مشکل بن سکتے ہیں۔

سلیمان نے پی ڈی خان کے سر میں ایک ضرب لگائی جس سے وہ بے ہوش ہو گئے اور انھوں نے پی ڈی خان کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور وہاں سے فرار ہو گئے اور اپنے گھر لے آئے جو کہ ایک بہت محفوظ مقام تھا۔اسکےبعد وہلیفٹیننٹ جنرل پی ڈی خان بنے اور مشہور 10 کور چکلالہ کی کمانڈ کی۔
کرنل سلیمان نے دشمن کو اپنی خاکی پر داغ نہیں لگانے دیا ۔ انھوں نے اپنی ماہ اور اپنے دوست سے کیے وعدے کو نبھایا اور غازی بن کر وطن لوٹے ۔ انھوں نے اور جنرل مشرف نے دونوں نے اپنے بیٹے کا نام رانا بلا ل کے نام پر ’بلال ‘ رکھا۔ اب ہم سب جانتے ہیں کہ جنرل مشرف اور پاک آرمی میں بہت سے لوگ آج تک انہیں محمد سلیمان دی میگنیفیکنٹ کیوں کہتے ہیں۔